سندھ سے زیادہ وزارت عزیز نہیں، حکومتی فیصلوں پر خاموش نہیں رہینگے: غوث بخش


شکارپور (نامہ نگار) سابق وفاقی وزیر غوث بخش مہر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد ملک کی بہتری کے لئے کیا تھا مگر حکومت صرف پیپلز پارٹی اور متحدہ کی ہی چل رہی ہے۔ مجھے وزارت سے ہٹایا نہیں گیا میں نے چار ماہ پہلے ہی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اگر مجھے سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے پر ہٹایا گیا ہے تو سندھ سے زیادہ مجھے وزارت عزیز نہیں، آغا سراج درانی کو کون کس کی پیداوار ہے پر باتیں نہیں کرنی چاہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ ضیاءالحق کے دور حکومت میں آغا سراج درانی کے والد آغا صدر الدین درانی کو سپین کا سفیر کس طرح بنایا تھا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ق لیگ سندھ کی صدارت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے مگر میں ابھی تک ق لیگ کا ممبر ہوں۔ میں سندھ کے مسائل کی خاطر پیر پگارا، مرتضیٰ جتوئی اور قوم پرست رہنما¶ں کے ساتھ ہوں۔ میرے بیٹے ایم پی اے شہر یار مہر نے سندھ کے بلدیاتی بل کے خلاف شروع سے ہی سخت مخالفت کی تھی۔ سندھ کے فیصلوں پر مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ میرے خلاف میڈیا پر جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔ کچھ ماہ پہلے پیر پگارو کی سربراہی میں کراچی میں سندھ کے مسائل پر اجلاس ہوا تھا اس اجلاس میں یہ طے ہوا تھا کہ ملک میں صرف پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت چل رہی ہے۔ مرکز میں ق لیگ کا اتحاد وزارتیں دینے کے لئے ہوا ہے۔ آئندہ الیکشن میں نئے اور اچھے نتائج نکلیں گے۔