جنوبی ایشیا میں آگ پر قابو پانا غیر تسلی بخش ہے: میڈیا رپورٹ

ڈھاکہ/ اسلام آباد/نئی دہلی (اے پی اے) ہفتے کے روز بنگلہ دیش کی ایک کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی۔ ایسا ہی واقعہ ستمبر میں کراچی میں پیش آیا جس میں 289 افراد جاںبحق ہو گئے تھے ۔اور ستمبر میں ہی جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں آتشبازی کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 40افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پورے ایشیا میں کئی عوامل فیکٹریوںمیں مرنے والوں کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ آگ بجھانے والے آؒلات کو سٹور روم کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے، اوراکثر تہہ خانوں کو کھوٹھیوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وقت پانی چھڑ کا و اور دھواں الارم شازو نادر ہی سُنے جاتے ہیں۔ا کثر ان میں کچلنے والے سینکڑوں افراد اس بات کی واضاحت طلب کرتے ہیں۔غریب بستیوں میں آگ مسلسل ایک بہت برا خطرہ ہے۔ڈھاکہ کی ایک گندی بستی میں 11افراد جاںبحق ہو گئے جن میں بچے بھی شامل تھے ان مرنے والوں میں سے ایک نے رکشہ ورکشاپ کھولنے کا سوچا تھا۔جون 2010 ڈھاکہ میں120 سے زائد لوگ جاں بحق ہو گئے تھے اور ایک فیکٹری سمیت 6عمارتوںبھی تباہ ہو گئی تھیں۔جنوبی ایشیا میں آگ پر قابو پانا غیر تسلی بخش ہے ،تربیت یافتہ اور عوام کی آگہی بہت کم ہے۔آگ پر قابو پانے کے لیے تربیت یافتہ کارکنوں کی کمی ہے۔کلپونہ اکتر نے کہا ہے کہ فیکٹریوں میں کارکردگی کا مظاہرہ آگ مشق صرف آڈٹ کی معیاد کو حاصل کرنے تک محدود ہے۔