ایم ایم اے بحال ہوئی نہ 50 فیصد نشستیں لینے کا مطالبہ کیا : قاضی حسین احمد


اسلام آباد (ثناءنیوز)سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ایم ا یم اے بحال ہوئی ہے نہ ہم نے 50 فیصد نشستیں لینے کا مطالبہ کیا اس کی بحالی سے قبل سیٹوں کی تقسیم اور ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ باقی چار جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم نے ایم ایم اے بحال نہیں کی نہ ایم ایم اے بحال ہوئی نہ ہم نے 50 فیصد نشستیں لینے کا مطالبہ کیا ہے ہم نے صرف یہ کہا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی کے اعلان سے پہلے آپس میں سیٹوں کی تقسیم اور ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا جائے اس کے بعد بحال کی جائے ۔ یہ بالکل غلط ہے کہ ہم ایم یم اے میں شامل ہونے کے لیے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ مذہبی جماعتیں اکٹھی ریں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مناسب طریقے سے ایک ایسا اتحاد ہو جائے جو صرف دین کے نام پر ووٹ لینے والا نہ ہو بلکہ دین کاکام کرنے والا بھی ہو ۔ ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ نیٹو کنٹینر فوج کی حفاظت میں جاتے ہیں اورہم انہیں روکنے کیلئے اپنی فوج کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے اس لئے ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ حکومت اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے۔ نئے صوبے انتظامی مسئلہ ہے اگر کسی علاقے کے لوگ اپنا انتظامی یونٹ الگ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کا موقع دیاجائے ہم ملکی مسائل کا حل نئے صوبے بنانا نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسند کسی پر بھی حملہ کریں میں انکی ہمیشہ مذمت کرتا ہوں۔ ایک سوال پر قاضی حسین احمد نے کہا کہ جماعت اسلامی فوج اور آئی ایس آئی کی بنائی ہوئی ٹیم ہے۔ یہ محض بعض لوگوں کی بنائی ہوئی اصطلاح ہے۔ اگر آئی ایس آئی نے افغانستان کو سوویت یونین کا حصہ بننے اور پاکستان کو بچانے کی کوشش کی ہے تو یہ جرم ہے تو پھر ہم نے بھی یہ جرم کیا ہے۔