اٹل بہاری واجپائی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نیک نیت مگر تنہا تھے : پرویز مشرف


لندن (کے پی آئی ) پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے مفادات اور اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور وہ اپنے اس موقف پر برابر قائم ہیں۔مشرف نے ایک بار پھر اس بات کا انکشاف کیا کہ کشمیری حریت لیڈر شپ کے ساتھ کشمیر مسئلے کے حل کے حوالے سے ان کی چار نکاتی فارمولہ پر بات چیت کے دوران انہوں نے حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کے سوا دیگر تمام قائدین کو یہ فارمولہ تسلیم کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ ایک ٹی وی انٹرویو مےں انہوں نے کہا کہ آگرہ دورے کے دوران وہ بھارتی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی دونوں ملکوں کے درمیان تمام تنازعات کو حل کرنے کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ کے مسودے پر متفق ہو گئے تھے جس کے تحت مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا تھا تاہم انکے بقول بھارتی لیڈر شپ نے اپنی سوچ بدل دی اور آخری منٹ میں مشترکہ اعلامیہ سے منہ پھیر لیا کیونکہ کابینہ نے اعلامیہ کا مسودہ منظور نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ اعلامیہ میں اتفاق رائے سے یہ درج کیا گیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک بنیادی مسئلہ ہے جسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائےگا لیکن بھارت کی لیڈر شپ نے آخری وقت میں اعلامیہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے ان الزامات کو بے بنیاد پروپیگنڈہ سے تعبیر کیا کہ پاکستانی فوج مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے سابق صدر نے اٹل بہاری واجپائی کو ایک مخلص سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کا نظریہ اچھا تھا اور وہ نیک نیتی سے اس مسئلے کا حل چاہتے تھے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ تن تنہا کوئی بھی فیصلہ لینے کے قابل نہیں تھے۔