انخلا کے بعد 10 ہزار غیر ملکی فوجی‘ افغانستان میں رہیں گے‘ 2014ءکے بعد بھی کالعدم لشکر طیبہ کو ٹارگٹ بنائیں گے‘ امریکی منصوبہ سازوں کے مشورے

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی اور اتحادی افواج کے فوجی منصوبہ ساز 2014ءکے بعد افغانستان کے لئے فورسز کی تعیناتی کے سلسلہ میں منصوبے بندی کر رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی انسداد فورس ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ نیٹو فورسز کا رول افغانوں کے لئے مشاورت تک محدود ہو گا۔ میدان میں ان کا کردار قطعی طور پر نہیں ہو گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی اور نیٹو فورسز کی مجموعی تعداد میں دس ہزار تک ہوگی۔ وال سٹریٹ جرنل نے افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے ابتدائی تجاویز دی ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ توقع ہے کہ جنرل ایلن 66ہزار امریکی فوجیوں کے تیزی سے انخلا کے آغاز کے لئے سفارشات پیش کریں گے۔ دو امریکی اہلکاروں کے حوالے سے اخبار نے کہا ہے کہ جنرل ایلن 2013ءکے خزاں تک متوازن فورس افغانستان میں رکھنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2014ءتک افغانستان میں تعینات امریکی انسداد دہشت گردی فورس کے مشن میں القاعدہ اور ممکنہ طور پر کالعدم لشکر طیبہ کو ٹارگٹ بنانا شامل ہو گا۔ تاہم یہ امر واضح نہیں ہو سکا کہ حقانی گروپ میں امریکہ کا ممکنہ ٹارگٹ ہو گا یا نہیں۔