دنیا میں تباہی والے ہتھیاروں کے پھیلائو، غیر ریاستی عناصر کی ممکنہ رسائی پر تشویش ہے: پاکستان

اقوام متحدہ (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلائو روکنے کیلئے ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کررہا ہے۔ اس سلسلے میں کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1540 کے جائزے کیلئے بلائی گئی باضابطہ مشاورت کے موقع پر کہی۔ یہ قرارداد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان جوہری عدم پھیلائو ، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام اور ان ہتھیاروں کے ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے شفاف اور منصفانہ حل کے ضمن میں کوششیں جاری رکھے گا۔ پاکستان نے اس قرارداد کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں اوراس ضمن میں قانونی ، ریگولیٹری، انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر اقدامات کو یقینی بنایاگیاہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ قرارداد نمبر 1540 کے ضمن میں متعلقہ ممالک نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا ہے اور جوہری عدم پھیلائو کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کافی پیشرفت کی گئی۔ ملیحہ لودھی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جوہری عدم پھیلائو کے دیگر پہلوئوں کے حوالے سے صورتحال مایوس کن ہے کیونکہ مخصوص سٹرٹیجک، سیاسی اور تجارتی مقاصد کیلئے جوہری عدم پھیلائو کے قوانین اور ضابطے کمزور کئے جاتے ہیں۔ پاکستان جوہری عدم پھیلائو اور ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنے کیلئے متفقہ بین الاقوامی اہداف کے حصول میں پرعزم ہے اور اس مقصد کیلئے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلائو اور ان ہتھیاروں کی ڈلیوری کے نظام تک غیر ریاستی عناصر کی ممکنہ رسائی پر تشویش ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون میں اضافے کی تعریف کی اور کہا کہ قرارداد پر مکمل عملدرآمد کیلئے اس کے تمام پہلوئوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد پر عملدرآمد کی کمیٹی کو اپنے بنیادی مینڈیٹ ، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو اور ان ہتھیاروں تک غیر ریاستی عناصر کی رسائی روکنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے، ایک فعال اور متحرک کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام موجود ہے جو جوہری پالیسی کے تمام پہلوئوں جیسے تکنیکی حل پرسنل ریلائبیلٹی پروگرام پر عملدرآمد، جوہری عدم پھیلائو اور جوہری سلامتی کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سخت گیر ریگولیٹری ضابطہ کار بھی موجود ہے جو جوہری حفاظت اور سلامتی بشمول جوہری ہتھیاروں اور سازوسامان کی حفاظت، کنٹرول ، گنتی، ٹرانسپورٹ سیکورٹی اور دیگر متعلقہ امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح جامع ایکسپورٹ کنٹرول رجیم پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ایکسپورٹ کنٹرول کے قوانین پر عملدرآمد کرتاہے۔