مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کے داخلے کے خلاف احتجاج کرنیوالے فلسطینیوں پر شیلنگ، متعدد زخمی

مقبوضہ بیت المقدس +غزہ+اقوام متحدہ (اے پی پی+اے این این) مسجد اقصٰی میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اورپیلیٹ گن کے استعمال سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ایرانی پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتوارکو علی الصبح اسرائیلی آبادکاروں کا ایک گروپ فوجیوں کی معیت میں مسجد اقصیٰ کمپاونڈ میں داخل ہوا اس دوران وہاں موجود فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا اورنعرے بازی کی۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے آنسوگیس اورربڑ کی گولیاں فائرکیں جس کی زد میں آکر متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔اسرائیلی فورسز نے چار فلسطینیوں کو حراست میں لے لیاہے۔ ادھراسرائیلی فوج کی جانب سے ماہ صیام کے دوران فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈائون میں بھی غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسیران اسٹڈ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہ صیام کے دوران فلسطین کے تمام شہروں اور قصبوں میں صہیونی فوج کے وحشیانہ کریک ڈائون میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ دو عشروں کے دوران 330فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں بچوں اور خواتین سمیت تمام عمر اور ہرطبقے کے فلسطینی شامل ہیں۔ماہ صیام کے دوران اسرائیلی فوج کی پکڑ دھکڑ میں 60 فلسطینی بچے گرفتار کیے گئے جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ اس کے علاوہ 21 خواتین کو حراست میں لیا گیا جن میں سے تین شادی شدہ اور صاحب اودلاد ہیں۔ غزہ کی پٹی کے ساحل پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 13 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لیا گیا۔دریں اثنا اقوام متحدہ نے فلسطینی بچوں کیخلاف اسرائیلی حکومت کے تشدد آمیز اقدامات میں اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیاہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے فلسطینی بچوں کے خلاف صیہونی حکومت کے تشدد میں اضافے کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ فلسطینی بچوں کیخلاف صیہونی حکومت کے مظالم اور تشدد کی، اقوام متحدہ سنجیدگی کے ساتھ تحقیقات کرے گا۔ عالمی ادارہ 15 سالہ فلسطینی نوجوان محمود بدران کی شہادت کی بھی تحقیقات کرے گا جس کے بارے میں اسرائیلی فوجیوں کا دعوی ہے کہ غلطی سے اس کو گولی ماردی تھی۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے غرب اردن کے شمالی علاقوں منجملہ نابلس، سلفیت اور طولکرم میں فلسطینیوں کے لئے پانی کی سپلائی بند کرنے کے اسرائیلی حکومت کے اقدام کے بارے میں کہا کہ فلسطینی وفدنے اس سلسلے میں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے نام شکایت ارسال کی ہے اور اقوام متحدہ کا نمائندہ اس مسئلہ کا بغور جائزہ لیگا۔