داعش کو شکست: عراقی فوج نے اڑھائی برس بعد فلوجہ آزاد کر ا لیا

بغداد(اے پی پی+ اے ایف پی + بی بی سی) عراق کے شمالی اورمغربی علاقوں میں عراقی افواج کی پیشقدمی اورکامیابیوں کے بعدداعش کو مسلسل ان علاقوں میں پسپائی پرمجبورکر دیا۔ عراق کے مغربی شہر فلوجہ کے آپریشنل کمانڈر میجر جنرل عبدالوہاب الساعدی نے ایک بیان میں کہا کہ فلوجہ شہر کے آخری حصے سے داعش کو بھگا دیا - ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فلوجہ کو داعش سے کلیئر کرا لیا ہے ۔ فلوجہ کو آزاد کرانے کی کارروائیوں میں گذشتہ 1 مہینے کے دوران سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ دہشت گرد گروہ داعش کے 15 سو کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا -عراق کی فیڈرل پولیس کے سربراہ شاکر جودت نے بھی کہا ہے کہ فلوجہ شہر کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کے دوران آس پاس کے82 گاؤں اور دیہات بھی داعش کے وجود سے پاک کردیئے گئے۔ قبل ازیں عراقی وزیر اعظم نے 17 جون کو فتح کا اعلان کیا تھا ۔ عراقی فوج کا کہنا ہے فلوجہ شہر میں داعش کے زیر قبضہ ان کے آخری گڑھ پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے ۔ عراق میں انسداد دہشت گردی فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبد الواحد السعدی کا کہنا ہے کہ ان کی فوجیں دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ آخری علاقے شمال مغربی گولان میں داخل ہوگئی ہے ۔ دولت اسلامیہ نے اس شہر پر جنوری 2014 ء میں قبضہ کر لیا تھا ۔ اس ماہ کے اوائل عراقی وزیرا عظم حیدر العابدی نے فوج کی جانب سے شہر میں کونسل کی عمارت پر جھنڈا لہرانے کے بعد شہر آزاد کروائے جانے پر تعریف کی تھی ۔ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبد الواحد السعدی کا کہنا تھا کہ فلوجہ کا قبضہ لینے کے دوران 1800 شدت پسند مارے گئے ۔ دسیوں ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی جن میں بوڑھے اور عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ۔ امدادی تنظیم نارویجیئن ریفیو جی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ لوگ شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبورہیں ۔ کمانڈروں نے داعش کو شکست دینے کا اعلان کر دیا ۔ ادھر فوجیوں نے وکٹری کا نشان بنایا ۔ وزیر اعظم نے شہریوں پر زور دیا ۔ جشن منائیں اور عزم کا اطہار کیا جلد موصل میں بھی پرچم لہرایا جائیگا۔