شہری آبادیوں میں قائم بھارتی فوجی کیمپ بے راہ روی کے اڈے بنا دیئے گئے ہیں : سید علی گیلانی

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حرےت کانفرنس کے چےرمےن سید علی گیلانی نے اس بات پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا ہے کہ سول آبادیوں میں قائم فوجی کیمپوں کو شراب، منشیات اور بے راہ روی کو فروغ دینے کے اڈوں میں تبدیل کرلیا گیا ہے اور بھارت انہیں تہذیبی جارحیت کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے ایک لانچنگ پیڈ کے طور استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی میں بستی بستی جو فورسز کیمپ قائم کرلئے گئے تھے، ان کی بظاہر کوئی ضرورت باقی نہیں رہ گئی۔، البتہ اب انہیں جنگی ضرورت کے بجائے دوسرے مقاصد کےلئے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ سول آبادیوں میں فوج کو تعینات رکھنا بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے اور جن خطوں میں بھی اسطرح کی کارروائی کی گئی ہے، وہاں اس کے تباہ ک±ن نتائج سامنے آگئے ہیں اور اب بھی آرہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ فوجی کیمپوں کے ساتھ عام لوگوں کے تعلق کو پیدا کرنے کا پہلا ذریعہ فوجی کینٹین کو بنایا جاتا ہے، جہاں غیر معیاری اشیائ، لوگوں کو رعائتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں اور اس کو انہیں پھانسنے کے حربے کے طور استعمال کیا جاتا ہے، دوسرے مرحلے پر فوج سدبھاونا کے نام پر میڈیکل کیمپ قائم کرتی ہے، جہاں علاج ومعالجے کے نام پر لوگوں کو ب±لایا جاتا ہے اور وہاں ان کا رسمی قسم کا چیک اپ ہوتا ہے اور بعد میں انہیں دوائی کی چند سستی گولیاں فراہم کی جاتی ہیں۔گیلانی نے کہا کہ یہ تعلقات قائم کرنے کے بعد فوج نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کبھی کبھار انڈیا ٹورکے نام پر سیر کےلئے باہر بھی لے جاتی ہے اور اس طرح سے انہیں بہلا پ±ھسلا کر اور ہپناٹائیز کرکے غلط راستوں پر ڈالا جاتا ہے۔ حریت چیرمین کے مطابق باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آگے چل کر فوجی کیمپوں سے شراب کی ترسیل کا باضابطہ آغاز کیا جاتا ہے اور برائے نام قیمتوں پر فروخت کرکے نوجوانوں کو اس کی لت ڈالی جاتی ہے، جو نوجوان لڑکے یا لڑکیاں بدقسمتی سے اس دام میں پھنس جاتے ہیں، انہیں پھر بے حیائی اور بے راہ روی کے راستے پر ڈالنا آسان ہوجاتا ہے اور فوج بڑی چالاکی اور خاموشی کے ساتھ یہ کام بھی انجام دیتی رہتی ہے ۔ گیلانی نے کہا کہ ان ہی بچوں کو بعد میں مخبری جیسے قبیح کام کے لےے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے عام شہریوں کی بھی جاسوسی کرائی جاتی ہے۔
علی گیلانی