امریکہ نے 35 عالمی رہنماﺅں کے فونز کی جاسوسی کی : برطانوی اخبار ‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے: یورپی یونین

 واشنگٹن /لندن /برسلز/نئی دہلی(اے این این+ بی بی سی+ثناءنیوز) برطانوی اخبار ” گارڈین“ نے انکشاف کیاہے کہ امریکہ نے دنیا بھر کے 35 رہنماو¿ں کی فون کالز کی جاسوسی کی، یورپی یونین میں شامل ممالک کے رہنماو¿ں نے اس انکشاف پرشدیدردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ جاسوسی کے معاملے پر امریکی بداعتمادی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم کے ترجمان نے کہاہے کہ ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے پاس موبائل فون ہے نہ ذاتی ای میل اکاو¿نٹ ،اس لئے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اخبارکی رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی افشاءکردہ خفیہ دستاویزات کے حوالے سے کہاگیاکہ امریکا نے دنیا بھر کے 35 عالمی رہنماو¿ں کی فون کالز کی جاسوسی کی۔ ان میں سے کسی رہنما کا نام عام نہیں کیا گیا ہے۔ ادھر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ان کے ذاتی فون کالز کی جاسوسی کی اطلاعات کے بعد کہا کہ جرمنی اور فرانس چاہتا ہے کہ امریکا رواں سال کے آخر تک نگرانی کے متنازع پروگرام پر معاہدہ کرے تاکہ یہ معاملہ حل ہوسکے۔ جاسوسی بند کی جائے۔ فرانسیسی صدر فرانکوئس اولاندے نے بھی فرانس میں ہزاروں فون کالز کی نگرانی کی اطلاعات کے بعد کہا ہے کہ امریکا انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے معاملے پر کوئی ضابطہ بنائے۔ دوسر ی جانب  یورپی یونین میں شامل ممالک کے رہنماو¿ں نے برسلز میں اجلاس کے بعد ایک متفقہ بیان میں کہا کہ بداعتمادی پیدا ہونے سے خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے عمل میں تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ امریکہ سے اپنے تعلقات کی قدر کرتا ہے تاہم انٹیلی جنس سے متعلق حالیہ معاملات نے یورپی عوام میں گہرے خدشات پیدا کیے ہیں۔ جبکہ وائٹ ہاو¿س کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ انٹیلی جنس کے بارے میں لگنے والے ہر الزام پر کھلے عام رائے نہیں دے گا تاہم وہ اپنی انٹیلی جنس معلومات کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔صدر یورپی کونسل نے کہا جرمنی اور فرانس واشنگٹن انتظامیہ سے براہ راست مذاکرات کرینگے: امریکہ سے وضاحت طلب کی جائے گی۔