ہیلری کلنٹن شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں کشیدگی ختم کرانے کیلئے سیئول پہنچ گئی ہیں۔

ہیلری کلنٹن شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں کشیدگی ختم کرانے کیلئے سیئول پہنچ گئی ہیں۔

شمالی کوریا نے  یہ اقدام اس بین الاقوامی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا  ہے جس میں شمالی کوریا پر الزام عائد کیا گیا ہے  کہ اس کے راکٹ حملے سے جنوبی کوریا کا ایک جنگی بحری جہاز سمندر میں ڈوب کر تباہ ہوگیا تھا ۔ رواں سال چھبیس مارچ کو ہونے والے اس حملے میں جنوبی کوریا کی بحریہ کے چھیالیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔ دوسری  جانب شمالی کوریا اس الزام کی تردید کررہا ہے، اس نے کہا ہے کہ اب جنوبی کوریا کے بحری اور ہوائی جہازوں کو بھی شمالی کوریا کی سمندری یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ ادھرامریکی وزیر خارجہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول پہنچ گئی ہیں۔ وہ اس دورے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک اور وزیرِ خارجہ یو میونگ ہوان سے ملاقاتیں کریں گی۔ سیؤل روانگی سے قبل ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین ملکر کوریائی بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ شمالی اورجنوبی کوریا میں قیامِ امن اور سیاسی استحکام کے لیے چین سے زیادہ کوئی ملک فکر مند نہیں ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کا معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرے گا ۔