سعودی عرب کا ڈیڑھ ارب ڈالر کا مبینہ "تحفہ" پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: روسی میڈیا

ماسکو (اے پی اے) روس کے نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کا مبینہ "تحفہ" رواں صدی کے اہم ترین پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے، اس بھاری رقم نے پاکستان کا رخ یکسر ایران سے دوسری طرف پھیر دیا، سعودی حکومت نہیں چاہتی کہ پاکستان ایران کے توانائی کے وسائل پر تکیہ کرنے لگ جائے، سعودی رقم سے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا مل گیا تاہم تہران سے یہ امکان چھن گیا ہے کہ وہ توانائی کے وسائل کے توسط سے پاکستان پر اثر انداز ہو سکے، "گیس پائپ لائن" ایک بار پھر خطے میں مصالحت سے گریزاں ملکوں ایران اور سعودی عرب کی خطے پر اثر انداز ہونے کی مسابقت کی بھینٹ چڑھ گئی، ایران پاکستان کے موجودہ موقف پر انتہائی ناراض ہے۔ گذشتہ روز اپنی رپورٹ میں روس کے نشریاتی ادارے نے کہاکہ جب گذشتہ سال مارچ میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے پاکستانی حصے کی تعمیر پر اتفاق کیا تھا تو تب یہ منصوبہ بہت زیادہ پر از توقعات لگا تھا تب تک ایران نے نہ صرف اپنی جانب 900 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھا دی تھی بلکہ وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر بطور قرض بھی دے گا جو پاکستان کے حصے میں ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائے جانے کے اخراجات کا ایک تہائی ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق ایسا کیا ہوا ہے کہ اسلام آباد کا رخ یکسر پھر گیا ہے؟ اس سلسلے میں ایک روسی مبصر مبصر سرگئی تومن نے کہاکہ بہت ممکن ہے کہ پاکستان کے ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سے اچانک انکار کرنے کی وجہ خفیہ جغرافیائی سیاسی نوعیت کی ہو، ایران کے خلاف پابندیوں کا محض سہارا لیا گیا ہے۔ یہ بات اپنی جانب توجہ مبذول کراتی ہے کہ ایران سے پاکستان نے رخ اس ڈیڑھ ارب ڈالر کے "تحفے" کے بعد پھیرا، جو اسے سعودی عرب کی جانب سے ملا ہے۔