فرانسیسی اپوزیشن نے کراچی میں انجینئروں کے قتل کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

پیرس (آن لائن) فرانس میں اپوزیشن نے2002 ءمیں پاکستان میں گیارہ فرانسیسی انجینئروں کے قتل کے واقعہ کی پارلیمانی انکوائری کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے وکیل اولیوئیر مورس نے بتایا کہ کراچی واقعہ کی عدالتی تحقیقات میں اسلام آباد کے ساتھ سب میرین کنٹریکٹ پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق تحقیق کاروں کو شبہ ہے کہ شاہد فرانسیسی کمپنی ڈی سی این کی طرف سے کنٹریکٹ حاصل کرنے کے بعد پاکستانی ثالثوں کو فرانس کی طرف سے کمیشن کی ادائیگی روکنے کے بعد سزا کے طور پر انجینئروں کو قتل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ایک انجینئر کی بیٹی میگامی ڈئروٹ کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹس کو یہ یقین ہے کہ انجنیئروں کے قتل کے احکامات جاری کئے گئے تھے کیونکہ پاکستانی کابینہ کے ایک سابق رکن کو ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔ پارلیمنٹ میں سوشلسٹ پارٹی کے رہنما جین مارک آئیر الٹ نے سپیکر پارلیمنٹ کو خط لکھا ہے جس میں واقعہ کی پارلیمانی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے ساتھ سال گزرنے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے اس قسم کے سنگین واقعات کی طرف توجہ دیں۔