چین کی سربراہی میں نیا ایشیائی ترقیاتی بنک بنے گا، پاکستان بھارت سمیت 21 ممالک نے دستخط کر دیئے

بیجنگ (نیٹ نیوز+ بی بی سی) اکیس ایشیائی ممالک نے چین کی سربراہی میں سماجی اور معاشی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لئے نئے ایشیائی ترقیاتی بینک (AIIB) کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ دستخط کرنے والوں میں پاکستان، بھارت، چین شامل ہیں۔ بیجنگ عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے اس نئے بینک کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے لیکن امریکہ ان دلائل کے ساتھ اس کی مخالفت کر رہا ہے کہ یہ غیر ضروری قدم ہے جو ورلڈ بینک جیسے مضبوط ادارے کو کمزور کر سکتا ہے۔ اس بنک کا نام ’’ایشیا انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس بینک میں سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ملک سے لے کر بھارت اور چین جیسے مضبوط معاشی ممالک، ویت نام، فلپائن، منگولیا، کمبوڈیا، عمان، ازبکستان، تھائی لینڈ، سری لنکا، قطر، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، برونائی، قازقستان، کویت، ملائیشیا اور میانمار شامل ہیں۔ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی ممالک جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا ابھی تک اس منصوبے کا حصہ نہیں بنے۔ سنگا پور بھی امریکہ کے زیادہ قریب ہے لیکن ان کے مطابق ابھی سے اس منصوبے کا حصہ بننے سے اس بارے میں ہونے والے فیصلوں میں ان کی رائے شامل ہو گی۔ امریکہ یہ تحفظات رکھتا ہے کہ اس بینک کے آنے سے حقوق انسانی، مزدوروں کے تحفظ اور شفافیت سے جڑی قرضوں کی لازمی شرائط کی کم پابندی کی جائے گی۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نئے بینک کے قیام کے بعد مضبوط عالمی ادارے ورلڈ بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ایشین ڈویلیپمنٹ بینک متاثر ہوں گے اور یہ ایسے ادارے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں بہتر طرز حکمرانی اور صاف ستھرے ماحول کے لیے کافی محنت کی ہے۔ قدرتی طور پر امریکہ نہیں چاہے گا کہ عالمی معیشت کے ایسے طاقتور اداروں سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے جن پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اثرورسوخ ہے۔ دنیا کی پہلی اور دوسری مضبوط معیشتیں امریکہ اور چین، ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایشیا میں اگر امریکہ اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے اثرورسوخ رکھتا ہے تو چین اپنی مضبوط معیشت کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ چین ابتدائی طور پر بینک کو پچاس بلین ڈالر دے گا جب کہ پچاس بلین ڈالر پرائیویٹ کمپنیوں سے حاصل کئے جائیں گے۔ یہ رقم ابھی ورلڈ بینک کے 220 بلین اور آئی ایم ایف کے 175 بلین ڈالرز سے کم ہے۔ چین نئے بینک کے علاوہ ’برکس‘ ممالک روس، بھارت برازیل اور جنوبی کوریا کے مشترکہ نئے ترقیاتی بینک کو بھی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ اس نئے بینک کے قیام کے بعد عالمی سطح پر اس کے اثرورسوخ اور وقار میں اضافہ ہو گا۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر امریکہ عالمی معاملات میں اسے نظرانداز کرتا ہے تو چین ازخود اپنے اثرورسوخ اور اہمیت میں اضافہ کرے گا۔ امریکہ نے اسے ورلڈ بنک جیسے عالمی سطح کا غیرضروری حریف ادارہ قرار دیا ہے۔ بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں 21 ممالک کے نمائندوں نے ایم او یو پر دستخط کئے۔