پاکستان کشمیر پر اقوام متحدہ کو ملوث نہ کرے، تنازعہ ہے تو مذاکرات سے حل کیا جائے: بھارت

نئی دہلی (نیٹ نیوز / بی بی سی) بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر میں اقوام متحدہ کو ملوث کرنے کی کوشش نہ کرے، اگر کوئی تنازعہ ہے تو اسے باہمی مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے انڈو تبتن بارڈر پولیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی بند کرے۔ انہوں معلوم ہے کہ بھارت کی فوج میں (ان کارروائیوں کا) منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت ہے۔ بی بی سی کے مطابق  جب سے لائن آف کنٹرول پرگولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اسی ہفتے وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ اگر ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو یہ پاکستان کیلئے مزید تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی کوششیں بھی ترک کردے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے اقوام متحدہ کی مداخلت کی بات کہی ہے لیکن اگر کوئی تنازعہ ہے تو اسے باہمی بات چیت کے ذریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارت نے چین کی متنازع سرحد کے قریب سڑکوں کی تعمیر کیایک منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے جس پر چین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت کے درمیان اگر سرحد پر کوئی تنازعہ ہے تو اسے بھی بات چیت کے ذریعہ ہی حل کیا جانا چاہیے۔ بھارت میں بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت نے پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ بند کر کے غلطی کی ہے۔ کانگرس کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی کہا کہ وزیر اعظم اگرچہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان کو خاموش کردیا گیا ہے لیکن ایل او سی پر فائرنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان دیوالی پر بھی کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے باز نہیںآیا،پاکستان کو سیزفائر کی خلاف ورزیاں روکنا ہونگی،بھارت امن پر یقین رکھتا ہے ،بھارت نے فائرنگ میں کبھی پہل نہیں کی ہمیشہ جوابی کاروائی کی ہے۔ بھارت نے کہا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر مذمتی قراردادوں کی منظوری کا مقصد معاملے کو عالمی سطح پر لانا ہے‘ ہم اسکے سخت مخالف ہیں۔ بھارت مسئلے کے حل کیلئے کسی کی ثالثی قبول نہیں کریگا‘ بھارت پاکستان کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم اس سے پہلے اسے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا، گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ پاکستان میں سرحدوں پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر پارلیمنٹ میں متفقہ قراردادیں منظور کی جارہی ہیں جن کا مقصد اس مسئلے کو عالمی برادری کے سامنے اٹھانا ہے۔ ہمیں کیوں کسی ملک کی جانب سے کسی مسئلے کو عالمی سطح پر لانے کے عمل پر کوئی مسئلہ ہونا چاہئے۔ اسکا انحصار اس ملک پر ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا خود جائزہ لے۔ بھارت اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا سخت مخالف ہے۔