میلہ گاﺅں بم دھماکے‘ غلطی سے بے گناہ 9 مسلمانوں کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا‘ بھارت کا اعتراف

میلہ گاﺅں بم دھماکے‘ غلطی سے بے گناہ 9 مسلمانوں کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا‘ بھارت کا اعتراف

نئی دہلی (اے پی پی) بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 2006ءمیں مہاراشٹر کے ایک گاﺅں میں ایک مسجد کے باہر ہونے والے میلہ گاﺅں بم دھماکوں میں غلطی سے بے گناہ مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ آرپی این سنگھ نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں ممبئی پولیس اور سی بی آئی کی طرف سے بم دھماکوں کے سلسلے میں 9 مسلمان نوجوانوں کی گرفتاری کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوںنے کہاکہ مستقبل میں مسلمانوں کی بے جا گرفتاری کے واقعات سے اجتناب کیلئے ضروری کارروائی کی جائے گی ۔ بعد ازاں سی بی آئی کی تحقیقات میں ثابت ہوا تھا کہ ان بم دھماکوں میں ہندو گروپ کے ارکان ملوث تھے ۔اگرچہ بے گناہ مسلمان نوجوانوں کو 5برس تک قید میںرکھنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا تاہم بھارتی حکومت نے انہیں کسی قسم کا معاوضہ ادا نہیں کیا تھا ۔