مقبوضہ کشمیر: مجاہدین کیساتھ جھڑپ‘ 4 بھارتی فوجی ہلاک‘ مفتی ہلال کی شہادت پر ہڑتال‘ مظاہرے

مقبوضہ کشمیر: مجاہدین کیساتھ جھڑپ‘ 4 بھارتی فوجی ہلاک‘ مفتی ہلال کی شہادت پر ہڑتال‘ مظاہرے

سرینگر (اے ایف پی+ کے پی آئی + آن لائن) مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کشمےری مجاہدین نے گزشتہ روز چار بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیا جبکہ ایک مجاہد بھی شہید ہو گیا۔ بھارتی فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل انکروششت نے بتایا کہ مجاہدین کے ساتھ مقابلے کے دوران ہمارے چار جوان مارے گئے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو سرینگر کے علاقے بوچھوترال میں فورسز اور مجاہدین کے مابین گھمسان کی جھڑپ میں چار فوجی مارے گئے۔ فتح کدل علاقہ میں بھارتی فورسز نے جمعرات کو دارالعلوم دیوبند سے فارغ مفتی ہلاک کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ مفتی ہلاک کے آبائی علاقہ پلہالن پٹن میں ہلال مولوی کو جاں بحق کرنے کی خبر پھیلی تو وہاں نوجوان کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں اور صدائے احتجاج کرنے لگے۔ اس دوران نوجوان نے سرینگر، مظفرآباد شاہراہ پر پتھراﺅ بھی کیا جبکہ علاقے میں دکانیں بھی بند ہو گئیں۔ اس دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ پلہالن کے نوجوان مفتی ہلال کو پہلے کسی نامعلوم جگہ سے گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں انہیں فرضی جھڑپ کا ڈرامہ رچا کر شہید کر دیا گیا۔ بیان میں گیلانی نے کہا کہ مفتی ہلال دین کی سوجھ بوجھھ رکھنے والا ایک صالح نوجوان تھا، جو اپنی بستی میں ایک درس گاہ چلاتا تھا، جہاں بچوں اور بڑوں کو وہ قرآن کی تعلیمات سے روشناس کراتا تھا۔ دریں اثناءمقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت کی طرف سے پرامن عدم تشدد پر مبنی تحریک 2008ءمیں شروع کی گئی۔ بی بی بی کے مطابق اس مم کو دبانے کے دوران ریاستی افواج کی فائرنگ سے کم از کم دو سو افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ حالات بظاہرمعمول پر آ گئے لیکن گرفتاریوں اور تھانوں میں پیشیوں کا لامتناہی سلسلہ بھی چل پڑا۔ ہزاروں نوجوان اور کم عمر لڑکوں کو تھانوں میں قید کیا گیا اور بیشتر کو جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ نوجوانوں کو بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جاتا ہےاور برسوں عدالتی سماعت کے بغیر قید کیا جاتا ہے۔ مقامی وکیل نے انکشاف کیا کہ فتح کدل میں مارے گئے ہلال مولوی کو بھی پتھراﺅ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی ضمانت کے لئے انہوں نے پیروی کی۔ انہوں نے کہااس نے مجھے بتایا کہ اسے حراست کے دوران اذیتیں دی گئیں۔ ادھر فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کرکے اپنے گھر میں نظر بند کیا۔ ادھر فریڈم پارٹی نے پلہالن پٹن کے مولوی ہلال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور کشمیری قوم اپنی سیاسی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک مسئلہ کشمیر کا پرامن سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاتا ہے۔دریں اثناءنیشنل فرنٹ کے چیئر مین نعیم احمد خان کو رہا کر دیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے جیلوں میں نظر بند دو کشمیری نوجوانوں کو رہا کرنے کے احکامات صادر ئے ہیں جبکہ حریت (گ) لیڈر میر حفیظ اللہ کو سرینگر سینٹرل جیل منتقل کرنے کا حکم بھی دیا۔