ایران عالمی برادری کی بھرپور مخالفت کے باوجود آج اپنے پہلے ایٹمی پاور پلانٹ کا تجربہ کررہا ہے۔

ایران عالمی برادری کی بھرپور مخالفت کے باوجود آج اپنے پہلے ایٹمی پاور پلانٹ کا تجربہ کررہا ہے۔

ایک امریکی ٹی وی نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ایٹمی پاور پلانٹ کی تیاری میں ایران کو روس کی تکنیکی معاونت حاصل ہے اور پلانٹ کا تجربہ روسی اور ایرانی حکام کی نگرانی میں کیا جائے گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تجربے کے دوران استعمال ہونے والے فیول راڈز میں یورینیم نہیں ہوگا اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو رواں سال کے آخر تک باقاعدہ یورینیم کے ساتھ تجربہ کیا جائے گا۔ ایٹمی تجرے کے موقع پر ایران نے بین الاقوامی میڈیا کو بھی کوریج کی دعوت دی ہے ۔ ادھر ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان حسن قاشقوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔