بھارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرنیوالے بے گناہ کشمیریوں پر تشدد بند کیا جائے: علی گیلانی

بھارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرنیوالے بے گناہ کشمیریوں پر تشدد بند کیا جائے: علی گیلانی

  سری نگر(اے این این)چیئرمین حریت سید علی گیلانی نے قصبہ بارہ مولہ میں پولیس اور قاضی آباد علاقے میں فوجی اہلکاروں کی طرف سے عام لوگوںکے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں اپنی مرضی سے ووٹ نہ ڈالنا ہر شہری کاایک جمہوری حق ہے البتہ جموںکشمیر وہ واحد خطہ ہے جہاں بائیکاٹ کرنے کو ایک سنگین جرم مانا گیا ہے اوراس کے لیے یہاں لوگوں اور خاص کر نوجوانوں کو نہ صرف گرفتار کرنے کاسلسلہ اب تک جاری ہے بلکہ انہیں پولیس تھانوںاور حراستی مراکز میں حراستی تشدد کا نشانہ بھی بنایاجارہاہے اور ان کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے تذلیل آمیز سلوک روا رکھاجارہا ہے۔ این بی آئی کو موصولہ ایک بیان کے مطابق انہوںنے عمر عبداللہ سرکارکو ہوش کے ناخن لینے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ موصوف تذلیل آمیز شکست کے بعد بھی کوئی سبق نہیں سیکھے ہیں اخباری بیان میں حریت چیئرمین نے بارہ مولہ کے شہریوں کے حوالے سے کہا کہ قصبے کے واحد پولیس اسٹیشن کو باضابطہ طورپر ایک تغذیب خانے میں تبدیل کردیاگیا ہے اور یہاں نظر بند درجنوںنوجوانوں کو مسلسل اذیت ناک حراستی تشدد کا نشانہ بنایاجارہاہے۔مقید نوجوانوں کے اہل خانہ جب تھانوں پر اپنے عزیزوں سے ملنے جاتے ہیں تو وہاں ان کے ساتھ بھی تذلیل آمیز سلوک کیاجاتاہے اوراس سلسلے میں خواتین کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتی جاتی ہے۔شہریوں نے سید علی گیلانی سے کہاکہ مذکورہ پولیس افسر بھرے بازاروں میں نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد  گھسیٹ کرلے جاتا ہے اور بعد میں تھانوںمیں انٹروگیشن کے دوران انہیں ننگا کیاجاتا ہے ۔عاشق قادر نامی نوجوان کو حراست کے دوران میں اتنی اذیت کانشانہ بنایایا ہے کہ اب وہ اپنی ٹانگوں پر کھڑا بھی نہیں رہ سکتا اوراس کی داڑھی تک نوچ نوچ کر نکالی گئی ہے۔ ان کے علاوہ مفتی عبدالاحد،جاوید حسین نجار، عبدالرشیدراتھر اور دانش احمد گوجری بھی ابھی تک حبس بے جا میں ہیں اور انہیں حراستی تشدد کانشانہ بنایاگیا ہے ۔ چھاپوں کے دوران میں لوگوں کے گھروں سے نقدی اور زیورات بھی لوٹ لیے جاتے ہیں  سوپور میں تعینات فوجی کیمپ کے اہلکاروں ننے اسی طرح قاضی آباد،سہی پورہ منڈگام،کھبی پورہ اور کچھلو علاقوںکے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔نوجوانوں سے ان کے شناختی کارڈ چھین لئے جاتے ہیں اور انہیں کیمپوںپر حاضری دینے پر مجبور کیاجاتا ہے ۔گیلانی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ ساتھ پہی بار حقوق کے لیے کام کرنے والی  مقامی غیر سرکاری تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بارہ مولہ قصبے میں کسی پولیس افسر کے ہاتھوں عام لوگوں اور خاص کر طالب علموں پر ڈھائے  جارہے مظالم کی تحقیقات کرانے کے لئے اس قصبے کادورہ کریں اوراس سلسلے میں نظر بند نوجوانوںکے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کریں اور ان باتوں کی تصدیق حاصل کریں جن کی انہوںنے شکایت کی ہیں حریت چیئرمین نے کہاکہ عمر عبداللہ حکومت کو بھی بارہ مولہ واقعے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے کہ متعلقہ پولیس افسر کو کیوں  اور کیسے بے لگام چھوڑ دیاگیا ہے اوراس کی کسی قسم کی سرزنش کیوں نہیں کی جاتی ہے۔