شام : مسجد پر بمباری،10 نمازی شہید: کرد جنگجوئوں کا داعش کے گڑھ ’’رقہ‘‘ میں فوجی اڈے پر قبضہ

دمشق، بیروت‘ کینبرا (اے ایف پی+ صباح نیوز+بی بی سی) شام کے شمالی صوبے حلب کی ایک مسجد پر طیاروں نے بیرل بم گرا دیا جس کے سبب 2 بچوں سمیت 10 نمازی شہید ہوگئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم سیریئین آبزرویٹری کے ترجمان نے بتایا مغرب کے وقت لوگ نماز ادا کر رہے تھے لڑاکا طیارے نے باغیوں کے زیر قبضہ ضلع انصاری کی مسجد پر بم حملہ کر دیا 20 نمازی موقع پر شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ شام کے شمالی علاقے میں کرد جنگجوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ شہر کے شمال میں واقع ایک اہم فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹ یا وائی پی جی کو امریکی فضائیہ اور دیگر باغی گروہوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔کرد جنگجوں کی جانب سے اس اڈے پر قبضے کا دعویٰ شام اور ترکی کے ایک سرحدی راستے پر قبضے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ کرد جنگجوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انھوں نے دولت اسلامیہ کے زیرانتظام علاقے میں واقع لیوا (بریگیڈ)93 بیس کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔آسٹریلوی حکومت ان اطلاعات کی تصدیقکی کوشش کر رہی ہے کہ اس کے دو شہری جودولت اسلامیہ کی جانب سے جنگ میں شامل ہونے گئے تھے وہ عراق میں مارے گئے۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق خالد شروف اور محمد العمر عراق میں جنگ کے دوران مارے گئے ہیں یہ دونوں افراد گزشتہ سال اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے جب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر کٹے ہوئے سر کی تصاویر پوسٹ کیں۔ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے منگل کو کہا کہ حکومت ان میں سے ایک موت کے تصدیق کے بہت قریب ہے۔