سیاہ فاموں کو غلام بنانا اب بھی ہمارے ’’ڈی این اے‘‘ میں ہے: امریکی صدر کا اعتراف

سیاہ فاموں کو غلام بنانا اب بھی ہمارے ’’ڈی این اے‘‘ میں ہے: امریکی صدر کا اعتراف

واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی + آئی این پی +بی بی سی) امریکی صدر بارک اوباما نے ایک ریڈیو انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ امریکی تاریخ پر سیاہ فاموں کو غلام بنانے کا سایہ چھایا ہوا ہے اور یہ اب بھی ہمارے ڈی این اے میں موجود ہے۔ صدر اوباما نے یہ بات ساؤتھ کیرولینا میں فائرنگ کے واقعے کے بعد کی جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ مبینہ طور پر نسلی امتیاز کا نتیجہ ہے۔ صدر اوباما نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو نسلی امتیاز کو شکست دینی ہو گی۔ نسلی امتیاز سے ہمیں چھٹکارا نہیں ملا، معاملہ صرف یہ نہیں کہ پبلک میں لفظ نیگر نہ بولا جائے کیونکہ یہ لفظ بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔بطور صدر یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما نے لفظ نیگر استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اپنی کتاب ’Dreams from my Father‘ میں یہ لفظ استعمال کیا تھا لیکن وہ اس وقت صدر نہیں تھے۔ واضح رہے کہ لفظ ’نیگر‘ سیاہ فام افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کے استعمال کو توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔ انٹرویو میں اوباما نے کانگریس پر تنقید کی کہ اس نے اسلحے کے بارے میں سخت قوانین نہیں بنائے۔ یہ محض واضح امتیاز کا مسئلہ نہیں ہے۔ معاشرہ 200 یا 300 سال قبل ہونے والے واقعات کو راتوں رات مٹا نہیں سکتا۔ یاد رہے کہ ساؤتھ کیرولینا کے علاقے چارلسٹن میں ایک افریقی امریکن چرچ پر ایک شخص نے فائرنگ کی تھی جس میں 9سیاہ فام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اوباما نے امریکہ کی مسلم کمیونٹی کے اعزاز میں وائٹ ہائوس میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا جبکہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ہم ایک خاندان کی طرح ہیں۔ امریکہ کسی بھی گروہ بندی کے خلاف ہے، یہ تقریب اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ تمام افراد کو اپنے مذہب اور عقیدے کی آزادی دیتا ہے۔ اوباما نے اپنی تقریب میں سمانتھا ایلاف کو بھی مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے نقاب پہننے کے حق مانگنے کیلئے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اوباما نے مذہبی تعصب کی مخالفت کرتے کہا مشرق وسطیٰ میں پناہ گزینوں کے بحران اور روہنگیا مسلمانوں کی حالت کا ذکر کیا، دنیا میں مصائب کا شکار لوگوں کو دعائوں میں یاد رکھنا چاہیے، انہیں بھی جو رمضان تنازعات کے علاقوں میں محرومی اور بھوک کی حالت میں گزار رہے ہیں، عراق، شام کے شہریوں کیلئے جو داعش کی بربریت کا شکار نہیں، یمن اور لیبیا کے شہریوں کیلئے جو تشدد اور عدم استحکام کا خاتمہ چاہتے ہیں، غزہ کے لوگ جنگ کے بعد بحالی کے عمل سے گزر رہے ہیں، اس طرح روہنگیا مسلمان سمندر میں بھٹکتے تارکین وطن ہیں، انہوں نے چیپل ہل میں قتل ہونے والے 3مسلمان نوجوانوں، کیرولینا کے چرچ میں مارے جانے والوں کا ذکر بھی کیا۔