مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی فائرنگ‘ 2 کشمیری شہید‘ یاسین ملک ساتھیوں سمیت گرفتار

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی فائرنگ‘ 2 کشمیری شہید‘ یاسین ملک ساتھیوں سمیت گرفتار

سرینگر  (اے پی پی+ بی بی سی) مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی پولیس نے جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمدیاسین ملک کو پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں سمیت سرینگر میں ان کے آبائی علاقے مائسمہ سے گرفتار کرلیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کو لال چوک مارچ کی قیادت کرنے سے روکنے کیلئے سرینگر اور ملحقہ علاقوں میں کرفیو اور سخت پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ تمام داخلی اور خارجی راستوں پر خاردار تاریں لگاکربند کر دیئے گئے۔ مارچ کی کال محمد یاسین ملک نے’’ کشمیرچھوڑ دو‘‘ تحریک کے آغاز کے طور پردی تھی۔ ادھر مقبوضہ وادی میں جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سرینگر کے مائسمہ ، کوٹھی باغ اور کرالہ گنڈ تھانوں کے تحت آنے والے علاقے سیل کئے گئے ہیں اور بازار سنسان جبکہ سکول اور کالج بند رہے۔ بھارتی پولیس نے شوپیاں، پلوامہ ، مائسمہ، نوہٹہ اور دیگر علاقوں میں مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں شوکت احمد بخشی اور نور محمد کلوال سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ وہ ’’کشمیر چھوڑ دو ‘‘ تحریک کے سلسلے میں جلوس کے ہمراہ لال چوک کی طرف جارہے تھے۔ بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کرتے ہوئے  سوپور کی کرانک شیون کالونی میں تلاشی اور محاصرے کے دوران  فائرنگ کر کے دو نوجوانوں کو شہید کردیا۔بھارتی پولیس نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مختار احمد وازہ کواپنے ساتھیوں سمیت اسوقت گرفتار کرلیا جب انہوں نے سرینگر میں مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں ظفراکبر بٹ اور جاوید احمد میر نے حال ہی میںترال میں بھارتی فوجیوں اور پولیس کے ذریعے تین نوجوانوں کی شہادت کے خلاف بھارت مخالف ریلی کی قیادت کی۔ ریلی میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر لوگ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کررہے تھے۔ حریت رہنما محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کے اس عزم کو دہرایا کہ جدوجہد آزادی کو مکمل کامیابی تک جاری رکھا جائے گا۔اس سے قبل حریت کانفرنس عمر گروپ کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق کی عوامی ریلی بھی کرفیو کی وجہ سے منعقد نہیں ہو سکی۔ سید علی گیلانی نے اس صورتحال کا حوالہ دے کر بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو بحال کرے۔ انھوں نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران کہا ’حکومت ہند کو دیکھنا چاہیے کہ یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوان ہتھیار اْٹھا کر مزاحمت کرنے لگے ہیں۔ وہ جانیں دے رہے ہیں۔ وہ نوکریوں یا مراعات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ حکومت کو چاہئے کہ کشمیریوں کے حق خودِ ارادیت کو بحال کرے۔