مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کا چار برس پرانے مقدمے میں میرواعظ کی گرفتاری کا اعلان

مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کا چار برس پرانے مقدمے میں میرواعظ کی گرفتاری کا اعلان

سرینگر(این این آئی) مقبوضہ کشمےر حکومت نے 2010 کے پرانے مقدمے مےں میر واعظ عمر فاروق کوگرفتار کرنے کا اعلان کےا ہے ۔ریاستی حکومت نے 2010 کے عوامی احتجاج کے دوران عید کے روز لالچوک چلو مارچ کے سلسلے میں درج کیس کے تحت حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کوگرفتار کرنے کے لئے عدالت سے 4روز کی مہلت طلب کی ہے ۔یہ کیس 2010کے دوران عید کے روز عیدگاہ سے لالچوک کی طرف میرواعظ کی قیادت میں مارچ کرنے کے حوالے سے کوٹھی باغ تھانہ میں درج کیا گیا ہے ۔اس مارچ کے دوران جہانگیر چوک میں محکمہ بجلی کا دفتر اور کرائم برانچ آفس پر اسرار طور خاکستر ہوگیا تھا۔فرسٹ ایڈیشنل منصف سرینگر جاوید احمد نائیک کی عدالت میں مسلم لےگ چیئرمین مشتاق الاسلام کے خلاف اسی کیس میں 4روز کی پولیس ریمانڈ کی منظوری دی گئی جس میں میرواعظ ،محمد یعقوب وکیل اور نثار حسین راتھر بھی ملزمان ہیں ۔کوٹھی باغ پولیس نے گذشت روز مشتاق الاسلام کو عدالت کے سامنے مذکورہ واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آرکے سلسلے میں ریمانڈ حاصل کرنے کیلئے پیش کیا۔
تفصیلات دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جی این شاہین نے کہاکہ کیس ڈائری کا جائزہ لینے کے بعدجج موصوف کے مطابق کیس کی تحقیقات مکمل لگ رہی ہے لیکن سبھی ملزمان کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ چیف پراسیکویٹنگ آفیسر نے عدالت سے کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کے لئے 4روز کا وقت طلب کیا تاکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جاسکے۔تاہم عدالت نے مشتاق الاسلام کو پولیس سٹیشن میں سوموار تک رکھنے کی ہدایت دی ۔اس موقع پر مشتاق الاسلام نے عدالت کو بتایا کہ پولیس انہیں فرضی کیس میں ملوث کررہی ہے اور انہیں 20جون کو گرفتار کرنے کا دعوی کررہی ہے حالانکہ اس وقت وہ سیفٹی ایکٹ کے تحت قید تھا۔اس موقعے پر مشتاق الاسلام کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اپنے بیٹے سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔
میرواعظ/ گرفتاری کا حکم