سعودی عرب میں 15 لاکھ غیر ملکیوں نے اپنی رہائشی حیثیت تبدیل کرلی، سعودی لیبر قوانین سخت ہیں ہم ان سے نہیں لڑ سکتے: پیر صدر الدین راشدی

ریاض (اے پی پی) سعودی عرب میں مقیم 15 لاکھ سے زائد غیرملکی کارکنوں نے اپنی رہائشی حیثیت تبدیل کرلی تاکہ 3 جولائی سے شروع ہونےوالے حکومتی کریک ڈاﺅن یا ملک بدری سے بچ سکیں۔ لیبر منسٹری کی رپورٹ کے مطابق ملک میں موجود 90 لاکھ سے زیادہ غیرملکی کارکنوں کے حوالے سے بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ان لاکھوں تارکین وطن کی جانب سے بھاری ترسیلات زر ان ملکوں کے معاشی استحکام کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے جن میں یمن، فلپائن، سری لنکا، بھارت اور پاکستان نمایاں ہیں۔ علاوہ ازیں سمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر پیر صدرالدین شاہ راشدی نے قومی اسمبلی کو بتایا سعودی عرب نے پاکستانیوں کو تین ماہ کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قانونی حیثیت دے لیں۔ شیخ رشید احمد کے ایک توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا سعودی لیبر قوانین انتہائی سخت ہیں اور ہم ان قوانین سے نہیں لڑسکتے۔