پاکستان مذہبی عدم برداشت ختم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے: انسانی حقوق تنظیم

نیویارک (نمائندہ خصوصی) ہیومن رائٹس کے ایک عالمی گروپ نے نوازشریف کی سربراہی میں قائم ہونے والی حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ مذہبی اقلیتوں پر حملے، بلوچستان میں لوگوں کے لاپتہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ ڈاگ نے وزیراعظم کو 10 نکات پر مبنی ایک لیٹر جاری کیا ہے۔ نیویارک میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی تنظیم نے مئی میں پاکستان میں انتخابی عمل کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اگر ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نہ روکا گیا تو جمہوریت کی منتقلی کا یہ عمل بے فائدہ ہو جائے گا۔ تنظیم نے کہا کہ 2012ءسے پاکستان میں ساڑھے 6 سو شیعہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ حکومت اقلیتوں پر حملے روکنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے۔ خواتین پر تشدد اور کاروکاری کرنے کے واقعات کے خلاف بھی م¶ثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ کرنے اور ان کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی روکنا ہوں گے۔ادھر لاہور سے جاری بیان میں انسانی حقوق کمشن پاکستان نے کراچی سے مسخ شدہ نعشوں کی برآمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے کمشن کا کہنا ہے کہ لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ نعشوں کو ٹھکانے لگانے جیسے اقدامات قابل مذمت ہیں، حکومت قاتلوں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ ان کی جیبوں سے ایسی پرچیاں ملی ہیں جن پر ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام فریقین کو واضح پیغام بھیجے کہ اغواءشدہ نوجوانوں کے قتل کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔