شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش، شواہد اکٹھے کر رہے ہیں: اوباما

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش، شواہد اکٹھے کر رہے ہیں: اوباما

واشنگٹن (اے این این) امریکی صدر بارک اوباما نے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بہت بڑا واقعہ ہے، اس بارے مزید معلومات اور شواہد اکٹھے کررہے ہیں۔ امریکی ٹی وی کےساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس ہفتے حزب اختلاف کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق لگائے گئے الزامات زیادہ سنگین ہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس سے قبل ہم جس طرح کے شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، ان کے برعکس یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ تاہم اوباما نے یہ نہیں کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ”سرخ لکیر“ بن گیا ہے یا نہیں اور آیا امریکہ شام میں فوجی مداخلت کرے گا یا نہیں۔ اس سے پہلے وہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سنگین نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں۔ ادھر روس نے شامی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ مشن کے ساتھ تعاون کرے اور اسے بشارالاسد کے فوجیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے۔ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری دونوں نے شامی قصبے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زوردیا ہے۔ دونوں نے جمعرات کواس ایشو پر فون پر تبادلہ خیال کیا۔ سیول میں سفارت کاروں کے ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی شامی حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز پر زوردیا کہ وہ معاملے کی حقیقت کو منظرعام پر لانے کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ کہیں بھی، کسی کی جانب سے بھی اور کسی بھی حالات میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گا“۔ انسانیت کے خلاف اس جرم کے ذمے داروں کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔
اوباما