عراق :فوج کی کارروائی ‘ خودکش حملہ ‘ داعش کے 200 جنگجو ‘7شہری ہلاک

عراق :فوج کی کارروائی ‘ خودکش حملہ ‘ داعش کے 200 جنگجو ‘7شہری ہلاک

بغداد( صباح نےوز)عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی مسلح افواج البیشمرکہ نے شمالی عراق کے شہر موصل میں ایک بڑے زمینی اور فضائی حملے میں دولت اسلامی داعش کے کم سے کم دو سوجنگجوہلاک ہوگئے ہیں۔ادھر تاجی کے علاقے میں خودکش حملے میں 7 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے تاجی کے بیس پر امریکی انسٹرکٹر عراقی فوجیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ کسی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ کرد فوج نے 2014 میں داعش کے قبضے میں چلے جانے والے موصل شہر کے کئی اہم علاقوں کو بھی شدت پسندوں سے آزاد کرا لیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز البیشمرکہ نے موصل ڈیم کے جنوبی علاقے وانکی میں دولت اسلامی کے ٹھکانوں پر ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں داعش کو غیر معمولی جانی اورمالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کرد فوج کے حملے کے بعد داعش پسپا ہو گئی۔ البیشمرکہ کے دھوک گونری کے سکیورٹی کمانڈر الشیخ علی نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی ویب سائٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنوبی موصل میں دولت اسلامی اور کرد فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی۔ کرد فوجیوں نے چار اہم دیہات داعش کے قبضے سے آزاد کرا لئے ہیں، جہاں داعش اپنی پندرہ نعشیں اور کئی زخمی چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ کرد فوج کرمامز، العظیم اور نینوی کے دوسرے علاقوں کی طرف فاتحانہ پیش قدمی کر رہی ہیں۔الشیخ علی نے بتایا کہ کرد فوج نے موصل ڈیم کی دوسری طرف کرزیر اور تل الذہب کو آزاد کرانے کے بعد ڈیم کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیم کے جنوبی علاقوں اور جنوب مغربی علاقے وانکی کو داعش سے مکمل طورپر کلیئر کرا لیا گیا ہے۔
کرد حملہ