بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر کا داماد‘ راجستھان رائلز کا مالک جواری قرار

نئی دہلی (بی بی سی) بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو چھ ہفتے میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیتے ہوئے موجودہ چیئرمین این سری نواسن کے ان انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم گذشتہ روز آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ کیس پر اپنے فیصلے میں دیا۔ عدالت نے انڈین پریمیئر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کے معاملے میں چنئی سپر کنگز کے عہدیدار گروناتھ میپن اور راجستھان رائلز کے شریک مالک راج کندرا کو مجرم بھی قرار دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے گروناتھ میپن کے سسر اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر این سری نواسن کو اپنے داماد کو بچانے اور ان کے اقدامات کی پردہ پوشی کے الزامات سے تو بری کر دیا تاہم کہا کہ وہ مفادات کے ٹکرائو کی وجہ بی سی سی آئی کا اگلا الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ سپریم کورٹ نے اپنے 130 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ گروناتھ میپن اور راج کندرا آئی پی ایل کے چھٹے ایڈیشن میں سٹے بازی میں ملوث رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے 130 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بی سی سی آئی ملک کے قانون سے بالاتر نہیں اور اس کے تمام معاملات کا تعلق عوام سے ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گروناتھ راج کندرا سٹے بازی اور میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔ عدالت نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو حکم دیا کہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔