افغانستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 23طالبان مارے گئے

افغانستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 23طالبان مارے گئے

کابل (نوائے وقت رپورٹ) افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 23 طالبان مارے گئے۔پارلیمان نے صدر کی نامزد کردہ 25 رکنی کابینہ کے ان سات وزرا کی توثیق کرنے سے انکار کردیا ہے جو دہری شہریت کے حامل ہیں۔ جن وزرا کی تقرری کھٹائی میں پڑ گئی ان میں وزیرِ داخلہ کے عہدے پر نامزد نور الحق علومی اور وزارتِ خارجہ کے امیدوار صلاح الدین ربانی بھی شامل ہیں۔
۔تجزیہ کاروں کے مطابق خدشہ ہے پارلیمان کے اس فیصلے کے بعد سکیورٹی امور سے متعلق بعض انتہائی اہم ذمہ داران کی تقرریاں مزید تاخیر کا شکار ہوجائیں گی جس کے باعث افغانستان کی سلامتی کی صورتِ حال مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے۔صدر اشرف غنی اور ان کے چیف ایگزیکٹو اور سابق حریف عبد اللہ عبداللہ کو 25 رکنی کابینہ کے ناموں پر اتفاقِ رائے میں تین ماہ لگے تھے جس کے بعد حال ہی میں صدر نے کابینہ کے وزرا کی نامزدگی کا اعلان کیاتھا۔افغان صدر غنی نے رواں ہفتے نامزدگی کی توثیق کےلئے وزرا کے نام پارلیمان کو بھجوائے تھے پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے ڈپٹی سپیکر نے افغان صدر کوایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ نامزد سات وزرا دوسرے ملکوں کی شہریت رکھنے کے سبب وزیر بننے کے اہل نہیں۔ڈپٹی اسپیکر صادق احمد عثمانی نے اپنے خط میں لکھا کہ نامزد وزرا تاحال دوہری شہریتوں سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں اور افغانستان کے آئین کے مطابق صرف وہی شخص وزیر بن سکتا ہے جو افغانستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کا شہری نہ ہو۔
وزرا