یورپی پارلیمنٹ نےایک متنازع معاہدے کی منظوری دی ہےجس کےتحت یورپی یونین کے ممالک غیرقانونی طورپرمقیم پاکستانیوں کوواپس بھیج سکیں گے۔

یورپی پارلیمنٹ نےایک متنازع معاہدے کی منظوری دی ہےجس کےتحت یورپی یونین کے ممالک غیرقانونی طورپرمقیم پاکستانیوں کوواپس بھیج سکیں گے۔

یورپی پارلیمنٹ نےمنگل کے روزدوسو پچاس کے مقابلے میں تین سو بیاسی ووٹوں سے اس معاہدے کی منظوری دی جبکہ تیئس ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ معاہدے کے تحت یورپی یونین کی جانب سے دوبارہ داخلے کے لیےدی جانےوالی کسی درخواست کا ساٹھ دن کے اندرپاکستان سے جواب نہ ملنے کا مطلب اس کی منظوری تصور کیاجائے گا۔ پاکستان کوبھی کسی شخص کے دوبارہ داخلے سے انکارکا جواز پیش کرنا ہوگا۔ یورپی یونین کے کچھ ارکان نے انسانی حقوق کی بنیاد پراس معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ منظوری کے بعد نئے قوانین کا اطلاق صرف ان افراد پرہوگا جومعاہدے کے مؤثر ہونے کے بعد غیرقانونی طورپریورپی یونین میں داخل ہوں گے۔ یورپین کمشن کا اندازہ ہے کہ ضروری دستاویزات کی عدم موجودگی کی وجہ سے یورپی ممالک میں تقریباً تیرہ ہزارپاکستانی گرفتارہیں۔یورپی پارلیمنٹ نےمعاہدے کی منظوری پاکستان کے ساتھ آٹھ برس تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد دی ہے۔