ہیکنگ:شمالی کوریا دہشت گردی کا معاون ہو سکتا ہے: امریکی صدر

واشنگٹن (بی بی سی) صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ سونی پکچرز کی ہیکنگ کے بعد امریکہ شمالی کوریا کو دوباہ دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا سوچ رہا ہے۔ سونی پکچرز کے ہیک کیے جانے کے واقعے کو سائبر سپیس میں جنگ کی بجائے لوٹ مار قرار دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو اس فہرست میں واپس ڈالنے کا فیصلہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ شمالی کوریا اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ سونی پکچرز کی فلم ’دی انٹرویو‘ کی ہیکنگ میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اس فلم کے ایک تخلیاتی منظر میں شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ ین کا قتل دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ سینیماؤں کو ملنے والی دھکمیوں کے بعد سونی پکچرز نے’دی انٹرویو‘ کو کرسمس پر نمائش کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا اور اب کپمنی اس فلم کی نمائش کے لیے متبادل ذرائع پر غور کر رہی ہے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر براک اوباما نے سونی پکچرز کی ہیکنگ ’سائبر سپیس میں لوٹ مار کی بڑی مہنگی واردات‘ قرار دیا۔