ٹرمپ کے ٹیلیفون ٹیپ ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں: ڈائریکٹر ایف بی آئی

واشنگٹن (آن لائن+ نوائے وقت رپورٹ، رائٹرز+ این این آئی) امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کیم جونگ ان بہت ہی بری طرح پیش آ رہے ہیں۔ چین نے تھوڑا تعاون کیا۔ نیٹو چین جینز سٹولیزنگ پہلے دورے پر امریکہ پہنچ گئے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈیون نونس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان خفیہ رابطوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ وکی لیس کے بانی جولین اسانج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ایجنسیاں ٹرمپ کی جگہ ان کے نائب مینس کو صدر بنا دیں گی۔ یہ خفیہ کارروائی ہلیری کی ٹیم کر رہی ہے، ہلیری جلد سیاست میں دوبارہ آئیں گی۔ ڈائریکٹر ایف بی آئی نے کہا ہے کہ الیکشن میں مبینہ روسی مداخلت کے سلسلہ میں صدر ٹرمپ کے مشیروں اور روس میں ممکنہ رابطوں اور ملی بھگت کی تفتیش کر رہے ہیں۔ ادھر ترجمان وائٹ ہائوس نے کہا روس سے ملی بھگت کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ جبکہ برطانیہ نے جرمی فلیمنگ کو خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیو کا سربراہ نامزد کر دیا۔ امریکہ کی ہائوس انٹیلی جینس کمیٹی میں صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کیس کی سماعت ہوئی۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق سابق صدر اوباما پر صدر ٹرمپ کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کے الزامات بھی زیربحث آئے۔ چیئرمین ہائوس انٹیلی جینس اور ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمبز کو نے موقف اختیار کیا کہ ٹرمپ ٹاور میں وائر ٹیپنگ نہیں ہوئی تھی۔ کانگریس کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا اوباما دور میں ٹرمپ کے ٹیلیفون ٹیپ ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔
ٹرمپ