پاک فوج، دفتر خارجہ، وائٹ ہائوس نے اسامہ کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ مسترد کر دی

پاک فوج، دفتر خارجہ، وائٹ ہائوس نے اسامہ کے حوالے سے نیویارک ٹائمز  کی رپورٹ مسترد کر دی

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)  امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ  کو مسترد کر دیا ہے جس  میں  دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی  کے  سابق سربراہ شجاع پاشا کو پاکستان  میں اسامہ بن لادن کی موجودگی  کا علم تھا اور انہوں  نے ان کی حفاظت  کیلئے آئی ایس آئی  میں ایک  خصوصی  ڈیسک  بنا رکھا تھا۔  سفارت خانے کے ترجمان نے امریکی اخبار کی خبر پر  شدید ردعمل  ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سینئر  امریکی حکام کے کئی  مواقع   پر  جاری کئے گئے  یہ بیانات  ریکارڈ پر  موجود ہیں جن میں کہا گیا تھا  کہ امریکہ  کے پاس ایسی  کوئی خفیہ اطلاعات  موجود نہیں  جن سے ثابت ہوتا  ہو کہ ایبٹ آباد  میں  اسامہ کی موجودگی کے بارے میں حکومت  پاکستان   یا اس کی کسی ایجنسی  کو علم  تھا۔ اس لئے اب اس  کے برعکس  باتیں کرنا اور گمنام  ذرائع اور غیر مصدقہ  رپورٹوں کی بنا پر اس معاملے کو ہوا دینا  قابل توجہ ہی نہیں۔ وائٹ ہائوس  نے بھی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔  نوائے وقت رپورٹ کے مطابق پاک فوج نے نیویارک ٹائمز میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ تمام مفروضات پہلے ہی غلط ثابت ہو چکے ہیں، سابق ائیرچیف راؤ قمر سلیمان نے بھی امریکی اخبار کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔  ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باوجوہ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ نیویارک ٹائمز میں لگائے گائے الزامات بے بنیاد ہیں۔کارلوٹا گال کے لگائے الزامات میں کوئی نئی بات نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تمام مفروضات پہلے ہی غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ میانوالی میں بات چیت کرتے ہوئے سابق ائیرچیف راؤ قمرسلیمان کا کہنا تھا کہ نیویارک ٹائمز نے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے حوالے سے صبح پانچ بجے امریکی حکام نے مطلع کیا۔ امریکی سینٹ کام کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے صبح پانچ بجے جنرل کیانی کو فون پر آگاہ کیا۔ راؤ قمر سلیمان کا کہنا تھا کہ جنرل کیانی نے انہیں رات دو بج کرسات منٹ پر فون کیا اور کہا کہ دو ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اسے چیک کر لیں۔ سابق ائیرچیف کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے وقت پالیسی کے تحت مغربی سرحد پر راڈار موجود نہیں تھے۔ اسامہ کے خلاف آپریشن کے بعد اب مغربی سرحدوں پرائیرڈیفنس سسٹم لگا دیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے اسامہ بن لادن کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ بکواس ہے۔ مفروضے  قائم کرکے پاک فوج اور آئی ایس آئی پر بے بنیاد  الزام تراشی کو مسترد کرتے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے  نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں  اسامہ بن لادن کے حوالے سے پاکستانی سکیورٹی اداروں پر  لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک ٹائمز  کی  نمائندہ  نے اپنی رپورٹ میں جو الزام تراشی کی ہے  وہ  نئی بات نہیں  پوری رپورٹ  مفروضوں  پر مبنی ہے، پہلے بھی ایسے تمام مفروضے بے بنیاد ثابت ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کی جانب سے اسامہ بن لادن کے تحفظ کے لئے بنائے گئے سپیشل ڈیسک کے حوالے سے الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج پر امریکی اخبار کے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، پاک فوج انہیں مسترد کرتی ہے۔ ان میں کوئی نئی بات نہیں۔ گال کی جانب سے اس سے قبل لگائے گئے الزامات بھی غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ میجرجنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ امریکی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، یہ الزامات بے بنیاداور من گھڑت ہیں۔ یہ الزامات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور پہلے بھی جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے قطعی لاعلم تھی۔ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ راؤ قمر سلیمان نے کہاہے کہ  اسامہ بن لادن سے متعلق امریکی صحافی کی خبر درست نہیں۔ انہوں نے کہا  2 مئی2011 کوامریکی ہیلی کاپٹروں کی آمد کے بارے میں جنرل کیانی نے انھیں رات2 بجکر7 منٹ پرفون کیا، جس کے بعد پاکستانی طیاروں کو فضا میں بھیجا گیا۔ پاکستان کی دفاعی پالیسی میں امریکہ ایک دوست ملک کی حیثیت رکھتا تھا، اسی وجہ سے پاک افغان سرحد پر کم بلندی والے ریڈار نصب نہیں کئے تھے، جنرل کیانی کے پاس صبح پانچ بجے ایڈمرل مولن کا بھی فون آیا تھا۔راو قمر سلیمان نے بتایا کہ ایبٹ آباد کمشن کو تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا،اور اس دن جو بھی گفتگو فون پر کی گئی وہ بھی ایبٹ آباد کمشن کو سنائی گئی تھی۔ امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز کی خبر کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے ہمارے پاس  یقین کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔فرسٹ پوسٹ ورلڈ کے مطابق وائٹ ہاوٗس کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان  لورا مگنسن نے یہ بات نیویارک ٹائمز کے مضمون کے حوالے سے کہی۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تردید بھی کی گئی لیکن جب وائٹ ہاوٗس نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان سے اس مضمون اور آئی ایس پی آر کی جانب سے تردید کے حوالے سے پوسٹ نے سوال  پوچھا تو انہوں نے اس بات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ اس بات پر یقین کرنے کے لئے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے اور فوج کے بڑے رینک کے افسر کو اس کا علم تھا کوئی ایسی وجہ سامنے نہیں آئی جس پر یقین کیا جائے۔ وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ امریکہ ہرگز اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ پاکستانی  اعلیٰ حکام کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا۔ اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وائٹ ہائوس میں قومی سلامتی کونسل کی ترجمان لارا لوکاس میگنوسن نے کہا کہ اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ امریکہ اس بات پر یقین رکھے کہ پاکستانی حکومت میں اعلیٰ سطح پر کوئی عہدیدار اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم رکھتا تھا۔ امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل نے نیویارک ٹائمز کی اسامہ بن لادن کے حوالے سے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ پاکستان کے سینئر اعلی حکام القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے آگاہ تھے۔ نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان لیوما لوکاس گلنوسن کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس بات پر یقین کریں کہ پاکستان کے اعلی حکام کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں علم تھا۔