بحر ہند میں ملبہ ، ٹکڑے لاپتہ طیارے کے ہو سکتے ہیں: آسٹریلوی وزیراعظم

بحر ہند میں ملبہ ، ٹکڑے  لاپتہ طیارے کے ہو سکتے ہیں: آسٹریلوی وزیراعظم

سڈنی+ کوالالمپور (بی بی سی نیٹ نیوز+ ایجنسیاں) آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ سٹیلائٹ نے جنوب مغربی بحر ہند میں ملبے کے دو حصوں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر ملائشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ آسٹریلیا کے حکام بحرِ ہند میں موجود ان دو ٹکڑوں کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں جو سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی دیئے ہیں اور امکان ہے کہ ان کا تعلق ملائیشیا کے لاپتہ طیارے سے ہے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے ہوائی اور بحری جہاز آسٹریلیا کے جنوب مغربی ساحلی شہر پرتھ سے 2500 کلو میٹر دور سمندر میں ممکنہ ملبہ کی تلاش کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔ سمندر میں پائے جانے والے ان ٹکڑوں میں سے سب سے بڑے کا حجم 24 میٹر کے قریب ہے تاہم میری ٹائم حکام کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا لاپتہ جہاز سے کوئی تعلق نہ ہو۔ آسٹریلیا جنوبی بحرِ ہند میں اس جہاز کو تلاش کر رہا ہے۔ تفتیش کار مسافروں اور عملے کے ارکان کے ماضی کے بارے میں چھان بین کر رہے ہیں تاہم کسی کے بھی دہشت گردی سے کسی ممکنہ ربط کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ آسٹریلیا کے سرکاری خبر رساں ادرے اے بی سی کے مطابق بحرِ ہند میں ممکنہ ملبے کے بارے میں وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے اپنے ملائیشین ہم منصب کو اطلاع کر دی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ آسٹریلیا مغربی ساحلی شہر پرتھ سے منسلک سمندر میں تین ہزار کلو میٹر تک طیارے کی تلاش کر رہا ہے۔ امریکہ کا تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش میں ملائیشیا کی حکومت کی مدد کر رہا ہے۔ بدھ کو امریکی صدر بارک اوباما نے لاپتہ طیارے کی تلاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کی تلاش کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے ہیں۔ مزید برآں ملائشیا کے نگران وزیر ٹرانسپورٹ حشام الدین حسین نے کہا ہے کہ بحرہند میں ملبے کے دو ٹکڑوں کی نشاندہی اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملبے کے ٹکڑوں کی نشاندہی کی تحقیقات اور تفتیش ہونے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے کہ ملبہ لاپتہ طیارے کا ہے یا پھر کچھ اور ہے۔ بحرِ ہند میں ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے ممکنہ ملبے کی تلاش کی عالمی مہم اندھیرے کی وجہ سے روک دی گئی ہے۔ آسٹریلوی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں ڈھائی ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تلاش کے عمل میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ شریک تھے اور حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور اندھیرے کی وجہ سے یہ عمل روکنا پڑا ہے۔ تلاشی مہم کے دوران آسٹریلوی فضائیہ کے دو پی تھری اوریئن طیارے اس چیز کی تصدیق کے لیے کوشاں رہے کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں نظر آنے والی چیزیں ملائیشین ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کے ہی ٹکڑے ہیں یا نہیں۔ آسٹریلوی طیارے کے پائلٹ نے واپسی پر بتایا ہے کہ شام ہونے تک موسمی حالات بگڑ گئے تھے اور تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ سمندر میں بلند لہریں اٹھ رہی تھیں۔