امریکہ کا اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں کیخلاف پاکستانی قرارداد پر بات چیت کا بائیکاٹ

امریکہ کا اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں کیخلاف پاکستانی قرارداد پر بات چیت کا بائیکاٹ

جنیوا (اے پی اے) امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ڈرون حملوں سے متعلق پاکستانی قرارداد پر غیر رسمی بات چیت کا بائیکاٹ کردیا۔ امریکی ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ڈرون حملوں  کے  متعلق ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سلسلے میں جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں مختلف ممالک کے درمیان غیر رسمی بات چیت ہو رہی ہے، اس مجوزہ قرارداد کے مسودے میں ڈرون کے استعمال پر باہمی غور کے لئے ایک پینل کے بلانے پر زورکے ساتھ  انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر فوری غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ڈرون حملوں کا ریکارڈ مرتب کرنے میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد کی منظوری سے ڈرون حملے قانونی یا غیرقانونی ہونے کی تحقیقات کی راہ ہموار ہو جائے گی، قرارداد کی منظوری کے لئے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں غیر رسمی بات چیت کا تیسرا دور بدھ سے شروع ہونا تھا تاہم امریکی حکومت نے اس بات چیت کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ نے بے حسی اور ڈھٹائی کی حد کر دی۔ پہلے ڈرون حملوں کا ریکارڈ دینے سے انکار کیا، پھر ڈرون حملوں میں شہریوں کی موت کے بارے میں جوابدہی سے بچنے کے لئے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کا ہی بائیکاٹ کر دیا۔