سلامتی کونسل نے ہیٹی میں لوٹ مار روکنے کیلئے اضافی فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی

پورٹ او پرنس(ایجنسیاں) اقوام متحدہ نے ہیٹی میں لوٹ مار روکنے کےلئے اضافی فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی جبکہ دارالحکومت پورٹ او پرنس میں لوٹ مار کے دوران اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک بچی ہلاک ہوگئی۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیٹی میں زلزلے کے بعد لوٹ مار جاری ہے اور لوگوں کے گروپ زلزلے سے تباہ ہونے والی سپر مارکیٹوں اور اسٹوروں سے سامان لوٹ رہے ہیں۔ سامان کی لوٹ مار روکنے کیلئے پولیس نے لوٹ مار کرنے والوں پر ہوائی فائرنگ کی۔ ادھر عالمی اعتراض کے باوجود مزید امریکی فوج بیس ہیلی کاپٹروں میں دارالحکومت پورٹ او پرنس پہنچی جس نے صدارتی محل اور قریبی علاقوں کا سکیورٹی کنٹرول سنبھالا اور امدادی کام میں حصہ لیا۔ہیٹی میں امریکی فوجیوں کی تعداد گیارہ ہزار ہوگئی ہے۔ سلامتی کونسل میں ہیٹی متاثرین کی امداد کے لیے قرارداد کے حق میں تمام پندرہ ہ اراکین نے ووٹ دئے۔ جس کے بعد فوجی دستوں میں اضافے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قرار داد کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ہیٹی کے ساتھ ہے۔متاثرین زلزلہ کے لئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں دنیا کے مختلف ممالک کی باون ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ہیٹی کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے زلزلے سے 75 ہزار افراد ہلاک اور ڈھائی لاکھ بے گھر ہوئے۔ ادھر ہیٹی میں زلزلے سے تباہ ہونے والے چرچ کے ملبے سے ایک ہفتے بعد ستر سالہ بوڑھی خاتون کو زندہ نکال لیا گیا‘ ملبے سے نکلتے وقت خاتون گانا گارہی تھیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 70 سالہ اینا زی زی پورٹ او پرنس کے رومن کیتھولک کیتھڈرل کے ملبے میں ایک ہفتے تک دبی رہیں مگر معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔ انہیں ٹھیک ایک ہفتے بعد میکسیکو کی ریسکیو ٹیم نے ملبے سے زندہ نکالا۔ جب بوڑھی خاتون کو ملبے سے نکالا گیا تو وہ گارہی تھیں۔ اینا زی زی کو ایک کیوبن ڈاکٹروں کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے ہیٹی کے زلزلہ متاثرین کے لئے خوراک تیار پیکٹ فضا سے گرانے کا وہ عمل شروع کر دیا ہے جسے پہلے خطرناک قرار دے کر نا ممکن قرار دے دیا گیا تھا۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کھانے کے چودہ ہزار تیار پیکٹ اور پندرہ ہزار لیٹر پانی ایک محفوظ علاقے میں گرایا گیا۔ امریکی فوجی اہلکار اب اس پر غور کر رہے ہیں کہ آیا لوگوں تک خوراک پہنچانے کا یہ طریقہ ہیٹی میں ہر جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔