توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے عالمی امن کے دشمن ہیں‘ اقوام متحدہ قانون سازی کرے : مجلس مذاکرہ

لاہور (رپورٹ: خواجہ فرخ سعید + سید عدنان فاروق) توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ذمہ دار مسلم حکمران ہیں، اشاعت کا ارتکاب کرنے والے عالمی امن اور انسانیت کے دشمن اور دہشت گرد ہیں، جب تک مسلم حکمران مغرب کی اسلام دشمنی پر احتجاج نہیں کریں گے اسلام کے خلاف سازشےں ہوتی رہیں گی، خاکوں کے مسئلہ پر اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی جائے، اقوام متحدہ انبیاءکرام کی شان میں گستاخی کے خلاف قانون سازی کرے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے مغرب کی اسلام دشمنی اور خاکوں کی اشاعت کے موضوع پر نوائے وقت دی نیشن اور وقت نیوز کے زیر اہتمام مجلس مذاکرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ مجلس مذاکراہ کا آغاز قاری نوید قمر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ میاں خلیل احمد شرقپوری نے اسلام کی سربلندی، استحکام پاکستان اور عالم اسلام کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کرائی۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینئر نائب صدر علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ خاکے شائع کرنے والے عالمی امن اور انسانیت کے بدترین دشمن ہیں انبیاءکے خاکے شائع کرنے والے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ جمعیت علماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ زوار بہادر نے کہا کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے چاہے وہ مغرب میں رہے یا مشرق میں رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومتیں مغرب کی اسلام دشمنی کے خلاف احتجاج اور آواز بلند نہیں کریں گی عوام کا احتجاج موثر نہیں ہو سکتا۔ ممتاز عالم دین مولانا سید کاظم نقوی نے کہا کہ عالم اسلام اس وقت تک سازشوں کا شکار رہے گا جب تک اپنے مشترکات پر متحد نہیں ہونگے، متحد و متفق ہو کر اسلامی اصولوں پر عمل کرکے ہی ہم اسلام دشمنوں کو شکست فاش دے سکتے ہیں۔ جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلی ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ مغرب میں اسلام کی مقبولیت پر وہاں کے حکمران طبقات پریشان ہیں، اسی خوف کے پیش نظر وہ اسلام دشمنی کے اظہار کا کوئی بھی موقع نہیں جانے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ جب ہمارے احتجاج اور قرارداد مذمت کو نہیں سنا جائے گا تو پھر ہم جہاد کا نعرہ ہی بلند کریں گے اور صحابہ کرام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے گستاخان رسول کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ جمعیت علما اسلام (ف) کے سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے کہا کہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک ہے، جب تک حکمران طبقات عوام کے ساتھ ملکر احتجاج نہیں کریں گے مغرب اسلام کے خلاف سازشیں کرتا رہے گا، انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ ناروے کے سفیروں کو ملک بدر کریں‘ انہوں نے اسلامی ممالک جلد از جلد سربراہی کانفرنس بلا کر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے توہین انبیاءپر قانون بنانے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تحریک حرمت رسول کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ مغرب خود کو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا علمبردار تو قرار دیتا ہے مگر حقیقت اس کے بالکل خلاف ہے وہ اسلام فوبیا کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ خاکوں کی اشاعت کی ہر سطح پر مزاحمت کرتے ہیں اور یہ فریضہ مستقبل میں بھی ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری شہید ہی ہونا چاہتے ہیں تو وہ حرمت رسول پر شہید ہوں‘ انہوں نے کہا کہ حرمت رسول کے تحفظ پر اسلامی کانفرنس منعقد کی جائے۔ جمعیت علما اسلام (س) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عاصم مخدوم نے کہا کہ خاکوں کی بار بار اشاعت مغرب کا مسلمانوں سے تعصب اور اسلام دشمنی کا اظہار ہے مگر اس پر مسلمان ممالک خصوصا حکومتوں کی خاموشی عالم اسلام کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے حکمران مسلمانوں کی نمائندگی کا فریضہ ادا نہیں کر رہے۔