پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مشکل مرحلہ ختم ہوگیا: شیری رحمن

 پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مشکل مرحلہ ختم ہوگیا: شیری رحمن

واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی) امریکہ میں پاکستانی فیر شیری رحمن نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مشکل مرحلہ ختم ہوگیا ہے اور اب دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار تعلقات اور اعتماد سازی میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے ۔ 2014ءمیں افغانستان سے فوجی انخلاءکے بعد بھی دونوں ملکوں کو اعتماد سازی ، پائیدار تعلقات اور مفاہمت کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ہاورڈ یونیورسٹی کی انسٹی ٹیوٹ برائے پالٹیکس میں فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر شیری رحمن نے کہا کہ اگر ہم آگے بڑھیں تو ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل دونوں ملکو کے درمیان تعلقات میں مشکل مرحلہ آیا تھا لیکن اب وہ مرحلہ ختم ہوچکا ہے۔ اسلام آباد اور واشنگٹن نے ادارہ جاتی سطح پر باہمی مفاد کے متعدد سٹریٹجک معاملات پر مذاکرات کئے۔ 2011ءمیں دو طرفہ تعلقات میں جمود کے بعد اب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد سازی بحال ہو رہی ہے۔ اب 2014ءکے قریب آتے ہی دونوں ملکوں کو رسمی چیلنجز کے ذریعے اعتماد اور کمیونیکشن کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے چیلنجوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ شیری رحمن نے افغانستان سے متعلق بعض حقائق کا ادراک کرنیکی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں کثیر الجہتی مسائل پر قابو پانے کیلئے جامع حل کی ضرورت ہے اور اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ صرف طاقت سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ سیاسی حل پر بھی ضرور توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شیری رحمان نے کہا کہ افغان جنگ کے دوران پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری میں 78 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔