بھارتی فوجی کا سر قلم کرنیکا باب ابھی بند نہیں ہوا مگر دونوں جانب سے بدلہ لینے کی باتیں مناسب نہیں: بھارتی وزیر خارجہ

نئی دہلی (ثناءنیوز) بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوجی اہلکار کا سر قلم کرنے کا باب بند نہیں ہوا ہے تاہم اس طرح کے واقعات کو دو طرفہ تعلقات کے عمل پر حاوی نہ ہونے دینے کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ صرف اس وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو مارا نہیں جا سکتا ہے کہ ہم اپنے فوجیوں کے قتل کا بدلہ لینے کا موقف اختیار کریں ۔اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب اور بعد میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دو طرفہ روابط اور تعلقات کو استوار کرنا چاہتا ہے تاکہ جنوب ایشیائی خطے کو امن اور خوشحالی کی جانب گامزن کیا جا سکے اور غربت و بے روزگاری کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام کو راحت پہنچائی جا سکے ۔کنٹرول لائن پر9جنوری کو پیش آئے واقعہ کے بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حد متارکہ پر پاکستانی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوجی اہلکار کا سرقلم کرنے کا معاملہ ختم ہو گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا چاہے کوئی واقعہ کتنا ہی برا ہو ، ہمیں دو طرفہ عمل جس کے ذریعے ہم ہر کسی بحران پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں سے انحراف نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بات کہ ایک چھوٹا واقعہ پورے عمل کو درہم برہم کر سکتا ہے اور سرحد کے دونوں طرف بدلہ لینے کی آوازیں اٹھتی ہیں جو مناسب نہیں۔