یمن: مزید 85 افراد ہلاک: حوثی باغیوں پر حملے بند نہ ہوئے تو سعودی عرب کیخلاف فوجی کارروائی کرینگے: ایران کی دھمکی

صنعا + ریاض+ تہران (نیوز ایجنسیاں) سعودی اتحادی فوج کی یمن میں بمباری، حوثی باغیوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان جاری لڑائی میں مزید 85 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونیوالوں میں اکثریت باغیوں کی ہے۔ صنعا کے علاقے میں سکڈ میزائلوں کے ایک ڈپو پر فضائی حملے سے زور دار دھماکے ہوئے اور 18 افراد جاں بحق اور 300 کے قریب زخمی ہوگئے دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔ جبکہ حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک حوثی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد غیر منصفانہ ہے ہم کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ جبکہ ایران کے بری فوج کے سربراہ بریگیڈئیر احمد رضا بوردستان نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کیخلاف فوجی کارروائی بند نہ کی تو تہران سعودی عرب کیخلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کریگا۔ ادھر سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان بریگیڈئر جنرل احمد العسیری نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ اتحادی طیاروں نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے 50فیصد گولہ بارود اور اسلحہ اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا، حوثی باغیوں کے ٹھکانوں اور تنصیبات پر 2300 فضائی حملے کیے گئے، باغی سعودی سرحد پر حملہ کرنا چاہتے تھے جنہیں پسپا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 24گھنٹے کے دوران اتحادی طیاروں نے حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادی سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے ٹھکانوں اور تنصیبات پر 106 فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی ملیشیا سعودی عرب کے سرحدی علاقے میں حملے کی تیاری کررہی تھی لیکن انہیں پیش قدمی سے روک دیا گیا ہے۔ ادھر عدن کے شمالی علاقے میں جھڑپوں میں 41 حوثی باغی اور 17 قبائلی ہلاک ہوگئے تعز شہر میں 10، ثبوہ میں 11 افراد مارے گئے۔ علاوہ ازیں ایرانی بریگیڈیئر بوردستان نے ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا لیکن ریاض کو بھی یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن بند کرنا ہوگا، سعودی عرب نے یمن میں لڑائی بند نہ کی تو جنگ کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ہمیں بھی سعودی عرب کے خلاف فوجی کارروائی پر مجبور ہونا پڑے گا اور ایرانی طیارے سعودی عرب پر بمباری کرینگے۔ دوسری طرف مبصرین کے خیال میں ایران سعودی عرب میں عملا فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن نہیں۔ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بارے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر بوردستان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کو جنگ کا کوئی تجربہ نہیں۔ اس لیے سعودی عرب کی فوج ایک ناتجربہ کار عسکری گروپ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ ریاض حکومت کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ یمن میں فوجی کارروائی ترک کرکے بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے ورنہ جنگ خود سعودی عرب تک پھیل سکتی ہے۔ اب سعودی عرب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ جنگ کو طول دینا چاہتا ہے یا اسے بات چیت کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی بری فوج کے سربراہ نے بالواسطہ طورپر یمن کے حوثی باغیوں اور برطرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کو سعودی عرب پر حملوں کی بھی ترغیب دی اور کہا کہ حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے پاس سعودی عرب پر حملوں کی بھی صلاحیت موجود ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ اتحادی طیاروں نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے اسی فی صد گولہ بارود اور اسلحے کو تباہ کردیا ہے اور ان کے بیلسٹک میزائلوں کو بھی ناکارہ بنادیا ہے۔یمن میں حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے کہا ہے کہ وہ گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور سعودی بمباری کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ نیویارک سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ایران نے یمن کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ جاوید ظفر نے کہا ہے کہ ان مذاکرات کیلئے سب سے بہتر جگہ یمن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی معاہدہ خطے میں مذاکرات کے دروازے کھول سکتا ہے جبکہ واشنگٹن سے نمائندہ خصوصی کے مطابق امریکہ کا ایک جنگی جہاز ایران کی طرف سے کسی ممکنہ اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کیلئے یمن کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔