مقبوضہ کشمیر میں طالب علم کی شہادت پر ہڑتال، علی گیلانی، میر واعظ، یٰسین ملک نے ملکر ریلی نکالی

سری نگر (نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس کی فائرنگ سے طالب علم سہیل احمد صوفی کی شہادت پر پیر کے روز مکمل ہڑتال رہی جبکہ حریت قیادت نے کافی عرصے بعد اکٹھے ہو کر طالب علم کی شہادت اور بھارتی مظالم کیخلاف نکلنے والی ریلی کی قیادت کی۔ تفصیلات کے مطابق سہیل احمد کی شہادت کیخلاف سرینگر سمیت مقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ حریت رہنماؤں سید علی گیلانی میر واعظ محمد عمر فاروق اور یٰسین ملک نے اپنی نظربندی کو توڑتے ہوئے اکٹھے ہو کر نربل میں طالب علم کی شہادت کے خلاف ریلی نکالی اور قیادت کی مظاہرین نے بھارتی فوج اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی حریت رہنما 8 سال بعد ساتھ ساتھ نظر آئے جنہیں اکٹھے دیکھ کر کشمیریوں کا جوش و خروش بڑھ گیا اور انہوں نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ محمد عمر فاروق نے کہا کشمیر کی بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق تک کی جدوجہد میں شہداء کا مشن جاری رہے گا۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ حریت رہنما محمد یاسین ملک نے کہا افسپا جیسے کالے قوانین سے بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو نہ کچل سکا ہے نہ دبا سکے گا۔ دریں اثناء سرینگر میں جے کے ایل ایف کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا مقبوضہ کشمیر میں ہندو پنڈتوں کے نام پر کشمیر میں اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے، مجوزہ بستیوں کے قیام سے نفرت کی دیواریں قائم ہونگی اور ان سے دوریاں، تنائو اور نفرتوں میں ہی اضافہ ہو گا۔ اسی لئے کشمیری مذہب اور فرقے سے بالاتر ہو کر ان علیحدہ بستیوں کے خلاف ہیں اور عہدہ کرتے ہیں ان نفرتوں کی دیواروں کو بننے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1947، 1965،1971اور 1990کے دوران ریاست چھوڑنے والے ہندو پنڈتوں کے کنبوں کو واپس آکر کہیں بھی آباد ہونے کا حق ہے تاہم مذہبی و طبقاتی بنیادوں پر ایسی بستیوں کا قیام انتہائی خطرناک اقدام ہو گا۔ یہ قرار داد لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے پیش کی۔ دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال اور سیمینار کے دوران پاس کی گئی۔ قرار داد میں مزید کہا گیا جو پنڈت بھائی 1990میں کشمیر سے الگ ہوئے انہیں اپنے گھروں اور کھلیانوں میں واپس آجانا چاہئے۔ ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اس موقع پر محمد یاسین ملک نے واضح کیا کہ کشمیری عوام پنڈتوں کی گھر کے خلاف ہیں تاہم انہیں مخصوص بستیوں میں بسانے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھر جنتا دل یونائیٹڈ کے صدر شردیادو نے کہا ہے اگر ریاستی وزیراعلیٰ مفتی سعید کو کام کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے تو وہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا راستہ نکال سکتے ہیں۔ وادی کی صورت حال 47ء سے اب تک ایک جیسی ہے۔