صومالیہ: ’’الشباب‘‘ کا بس پر بم حمہ‘ اقوام متحدہ کے 6 کارکنوں سمیت 9 ہلاک

صومالیہ: ’’الشباب‘‘ کا بس پر بم حمہ‘ اقوام متحدہ کے 6 کارکنوں سمیت 9 ہلاک

موغادیشو (بی بی سی+اے ایف پی) صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے پروگرام یونیسف کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں مرنے والوں میں اس کے 6کارکن بھی شامل ہیں۔ادارے کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو لے جانے والی بس سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنی۔پولیس کے مطابق بس پر بم پھینکا گیا۔ مرنے والوں میں غیرملکی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ملازمین دفتر سے چند منٹ کی دوری پر واقع گیسٹ ہاؤس سے دفتر آ رہے تھے کہ حملہ ہوا جس میں چار ملازمین شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔انہوں نے ہلاک شدگان کے نام یا قومیتیں بتانے سے معذرت کی اور کہا کہ ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے رابطے کے بعد ہی ان کی شناخت ظاہر کرنا ممکن ہوسکے گا۔شدت پسند گروہ ’’الشباب‘‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔جائے حادثہ پر موجود ایک پولیس افسر محمد عابدی کا کہنا تھا کہ ’جب یہ دھماکہ ہوا تو بس ملازمین کو لے کر اقوام متحدہ کے دفتر جا رہی تھی۔‘پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے میں چھ راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں سفید رنگ کی ایک چھوٹی بس دیکھی جا سکتی ہے جس کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔صومالیہ میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نکلس کے نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔پولیس کے مطابق مرنیوالوں میں 4 غیر ملکی اور 2 مقامی شہری ہیں۔ صومالی صدر حسن شیخ محمود نے دھماکے کی مذمت کرتے کہا یہ ہمارے بچوں اور ملک کے مستقبل پر حملہ ہے۔ ترجمان الشباب عبدالعزیز ابو نے ذمہ داری قبول کر لی اور بیان میں کہا اقوام متحدہ ایک استعماری فورس ہے۔