سابق سری لنکن صدر راجا پاکسے کی رشوت کیس میں انسداد بدعنوانی کمیشن کے سامنے طلبی

 کولمبو (اے ایف پی) سابق صدر مہندا راجا پاکسے کو رواں ہفتے کے آخر میں رشوت کے الزامات پر سری لنکا کے انسداد بدعنوانی ادارے کے سامنے پیشی کے لئے طلب کیا گیا ہے ، یہ بات پیر کے روز پارلیمنٹ کو بتائی گئی۔ راجا پاکسے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 69سالہ رہنما سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعرات کے روز رشوت یا بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنیوالے مشن کے ساتھ بذات خود پیش ہوں اگرچہ کہ کمیشن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ انفرادی کیسوں پر تبصرہ نہیں کرے گا۔ سابق صدر کے حامیوں نے سپیکر پارلیمنٹ ،جو کہ راجہ پاکسے کے بڑے بھائی ہیں ،سے کہا کہ وہ معامیل میں مداخلت کریں اور تحقیقات کو رکوائیں ۔پارلیمنٹ میں راجہ پاکسے کے پیپلزالائنس دھڑے کے رہنما نیمال سری پالا ڈی سلوا کا کہنا ہے تھا کہ اگر آپ ایک سابق صدر سے اس کے ایگزیکٹو اقدامات سے متعلق پوچھ کچھ کررہے ہیں تو یہ ایسی کوئی چین نہیں جسے ہم قبول کرسکتے ہیں۔ڈی سلوا نے سپیکر چیمال راجا پاکسے پر زور دیا کہ وہ انسداد بدعنوانی ادارے پر دبائو ڈالیں کہ تحقیقات روک دی جائیں۔ چیمال راجا پاکسے نے جواب میں کہاکہ وہ فوری طورپر کوئی رولنگ نہیں دے سکتے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد بدعنوانی کمیشن تحقیقات کررہا ہے کہ آیا راجہ پاکسے نے اپوزیشن کے ایک سینئر رکن کو جنوری کے صدارتی انتخابات سے قبل منحرف ہونے کے لئے رشوت دی تھی جس میں انہیں ایک مرتبہ کے اتحادی میتھری پالا سری سینا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے سری سینا نے راجا پاکسے کے قریبی حلقوں کے خلاف کرپشن کے الزامات کی سلسلہ وار تحقیقات کا  آغاز کررکھا ہے، تاہم یہ پہلا موقع ہو گا کہ سابق صدر بذات خود تفتیش کا سامنا کریں گے ۔پیر کے روز پارلیمنٹ کے سیشن میں یہ بھی سنا گیا کہ راجہ پاکسے کے چھوٹے بھائی گوٹابہائیہ سے بھی کمیشن بدھ کے روز غیر متعلقہ کرپشن الزامات کے سلسلے میں تفتیش کرے گا۔ گوٹا بہائیہ اپنے بھائی کے ماتحت سیکرٹری دفاع رہ چکے ہیں اور راجا پاسکے کی حکومت کے پیچھے مرکزی طاقت کے طورپر دیکھے جاتے رہے ہیں۔ ایک عدالت پہلے ہی گوٹا بہائیہ پر سفری پابندی عائد کر چکی ہے جبکہ ایک اور بھائی سابق وزیراقتصادی ترقیات باسل کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں جو انتخابات میں شکست کے فوری بعد جزیرہ نما ملک سے فرار ہو گئے تھے۔