افغانستان: بارودی سرنگیں صاف کرنیوالے 19 افراد اغوا‘ طالبان ملوث ہیں: صوبائی گورنر

گردیز (بی بی سی+ اے ایف پی+ رائٹرز) افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے پکتیا میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے ٹیم میں شامل 19 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ طالبان ملوث ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں باردوی سرنگوں کو تلف کرنے والے ٹیم بغیر کسی رکاوٹ کے کئی ہفتوں سے کام کررہی تھی اور انھیں دیہاتی افراد سکیورٹی فراہم کرتے تھے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ورکرز کو مغوی بنایا ہے۔ افغانستان میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والی ٹیم پر اس سے قبل بھی مسلح افراد نے حملے کیے ہیں اور انھیں اغوا کیا ہے۔ جس کے بعد مقامی قبائل اور اغواکاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔ پکتیا صوبے کے پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ زورمت ضلع میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے ٹیم بغیر کئی ہفتوں سے کام کر رہی تھی۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ اغوا کاروں نے مغویوں کو گاڑیوں سمیت اغوا کیا ہے اور اْن کی رہائی کے لیے کوشش جاری ہے۔ صوبائی ڈپٹی گورنر عبدالولی ساہی نے بھی واقعہ کی ذمہ داری طالبان پر ڈال دی۔ مغویوں کا تعلق سٹرلنگ ڈی مائننگ کمپنی سے تھا۔ ادھر صدارتی آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے مسلح افراد نے ہزارہ کمیونٹی کے 4 مغویوں کے سر قلم کر دیئے۔ یہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا تھا۔ طالبان کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔