پاکستانی طلبا کی رہائی یا عدالت میں پیشی کا فیصلہ کل کیا جائیگا: برطانوی دفتر خارجہ

لندن (ثناءنیوز) برطانیہ کی وزیر خارجہ جیکی سمتھ نے کہا ہے کہ برطانیہ میں اب بھی دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں\\\' پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد کے ساتھ مل کر سول سوسائٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا جا رہا ہے\\\' دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پاکستان کو سالانہ 10 ملین پونڈ کی امداد دی جا رہی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے 8 اپریل کو شمال مغربی برطانیہ میں گرفتار ہونے والے بارہ طلبہ کی تفصیلات بتائیں جن میں سے دس پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر سول سوسائٹی کو مضبوط کرنے کے لئے کام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ برطانوی وزیر داخلہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پاکستان کو سالانہ 10 ملین پونڈ کی امداد دی جا رہی ہے جبکہ سوشل سیکٹر میں دی جانے والی امداد کو تین برسوں میں 480 ملین پونڈ تک بڑھایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دباﺅ کے بعد دفتر خارجہ میں بریفنگ دیتے ہوئے برطانیہ کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ 22 اپریل کو تحقیقات مکمل ہو جائیں گی اور اسی روز طلبہ کی رہائی یا عدالت میں پیشی کا فیصلہ کیا جائے گا۔