چاول سکینڈل: سابق تھائی وزیراعظم ینگ شےناوترا پر مقدمہ چلانے کی منظوری

چاول سکینڈل: سابق تھائی وزیراعظم ینگ شےناوترا پر مقدمہ چلانے کی منظوری

بنکاک (اے ایف پی/ رائٹرز) تھائی لینڈ کی اعلیٰ ترین عدالت نے ملک کی سابق وزیرِ اعظم ینگ لک شیناوترا پر چاولوں کی زیادہ قیمت پر خریداری کے معاملے میں فوجداری مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی ہے۔تھائی سپریم کورٹ کے جج ویراپل تانگسوان نے جمعرات کو کہا ہے کہ نو رکنی عدالتی پینل نے اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کا جائزہ لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ینگ لک کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز 19 مئی سے متوقع ہے اور اگر اس معاملے میں وہ مجرم قرار پاتی ہیں تو انھیں دس برس قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان پر عائد کیے جانے والے الزامات ان کا سیاسی کریئر ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دستاویزات کے 20 ڈبے جمع کروائے گئے تھے جن میں ینگ لک پر چاولوں کی سبسڈی پروگرام کی نگرانی میں اپنی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کا الزام لگایا گیا تھا۔ تھائی لینڈ کے قومی انسدادِ بدعنوانی کمشن نے بھی وزارتِ خزانہ سے کہا ہے کہ وہ ینگ لک پر مقدمہ کر کے ان سے کم از کم چھ سو ارب بھات بطور ہرجانہ وصول کرے۔ ینگ لک کے خلاف چاولوں پر سبسڈی کے معاملے میں الزام ہے کہ ان کی حکومت نے تھائی کسانوں سے جس قیمت پر چاول خریدے وہ عالمی منڈی کی قیمت سے کہیں زیادہ تھی۔ اس خریداری کی وجہ سے ملک میں حکومتی گوداموں میں چاول کے ڈھیر لگ گئے اور انھیں برآمد کرنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔