شدید گرمی، رمضان کی آمد، شمالی وزیرستان کے متاثرین کی مشکلات مزید بڑھیں گی: بی بی سی

بنوں (بی بی سی) پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے بے گھر ہونے والے افراد کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کارروائیاں کی ابتدا ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک کے زیادہ تر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان کی بھی آمد آمد ہے جس سے آنے والے دنوں میں متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں چار روز قبل شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے دوران پہلی مرتبہ کرفیو میں نرمی کی گئی جس کے ساتھ ہی میرعلی کے علاقے سے سینکڑوں خاندانوں نے محفوظ مقامات کی جانب رخ کیا۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق مقامی افراد کو علاقے سے نکالنے کے لیے مرحلہ وار پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت مختلف مقامات سے لوگوں کا انخلا مکمل کرایا جائے گا۔ بنوں میران شاہ سڑک گذشتہ روز صبح سے لے کر شام تک سارا دن متاثرین کی گاڑیوں کے رش کے باعث کسی جلوس کا منظر پیش کرتی رہی اور اس دوران نقل مکانی کرنے والے افراد ٹرکوں، ٹریکٹروں، ہائی ایس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر خواتین اور بچوں سمیت قافلوں کی صورت میں وقفے وقفے سے بنوں پہنچتے رہے۔ کئی افراد گاڑیوں کی عدم دستیابی یا غربت کی وجہ سے پیدل وزیرستان سے قریبی علاقوں میں منتقل ہوئے اور ان کے ہمراہ بچے اور خواتین بھی تھیں۔ کئی گاڑیوں میں متاثرین کے ہمراہ ان کے مال مویشی بھی دکھائی دئیے۔ گاڑیوں میں سفر کرنے والے ننھے منے متاثرین بچوں کے چہروں پر پریشانی اور مایوسی کے آثار بھی نمایاں تھے۔ آپریشن کے مارے ہوئے کئی قبائلی جگہ نہ ہونے کے باعث گاڑیوں کی چھتوں اور ڈکیوں میں بھی سفر کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔ میرعلی کے ایک نوجوان محمد منصور موٹر سائیکل پر چار بچوں کو بٹھائے بنوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ اتنے خطرناک طریقے سے کس طرح بچوں کو بائیک پر سوار کر کے جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ چار دن سے ان کا تمام خاندان کرفیو کی وجہ سے گھر کے اندر محصور تھا اور اس دوران وہاں صرف جیٹ طیاروں کی بمباری،  ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ اور توپ خانے کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ’ہم جان بچا کر علاقے سے نکلے ہیں، گاڑیوں میں اور جگہ نہیں تھی تو میں نے ان بچوں کو بائیک پر سوار کر کے یہاں پہنچایا ہے۔‘ میرعلی سے بے گھر ہونے والے اکثریتی قبائلی خاندان بنوں، کرک، کوہاٹ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور ملک کے دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے طور پر کرائے کے مکانات، رشتہ داروں اور دوستوں عزیزوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ میرعلی کے ایک اور رہائشی محمد نیاز نے بتایا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ آپریشن کا مرکزی ہدف صرف غیر ملکی اور طالبان شدت پسند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر علاقوں میں عام شہریوں کے مکانات بھی نشانہ بنے ہیں اور ان کے کافی نقصانات بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ کرفیو کے دوران قیامت جیسا منظر تھا، تمام بازار اور تجارتی مراکز بند رہے جس کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی شدید قلت رہی۔‘ ان کے مطابق ’اس سے بہتر تھا کہ ایک ہی وقت میں سارے وزیرستان پر ایٹم بم گرایا جاتا اور اس طرح قصہ ہی ختم ہو جاتا اور حکومت کی خواہش بھی پوری ہو جاتی۔‘ شمالی وزیرستان سے بنوں تک تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط سڑک پر حکومت کی طرف سے متاثرین کے لیے کسی قسم کا کوئی ریلیف کیمپ یا فوڈ پوائنٹ نظر نہیں آیا۔ تاہم بنوں میران شاہ سڑک پر الخدمت فاؤنڈیشن اور مقامی افراد کی طرف سے بعض مقامات پر چھوٹے چھوٹے کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں بے گھر افراد کے لیے شربت اور ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم کے ڈائریکٹر جنرل طاہر اورکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے مرکز اور صوبے کی طرف سے الگ الگ طور پر امداد کا اعلان کیاگیا ہے جس کے تحت ان کو امدادی رقوم ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ حکومت کی طرف سے امداد دینے کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں کسی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوسکتی لہٰذا متاثرین کو رقوم نہ ملنے کے سلسلے میں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔