افغان طالبان نے مذاکرات کی امریکی پیشکش مسترد کر دی‘ سیکورٹی معاہدہ پر دستخط کیلئے امریکہ کو امن بات چیت شروع کرنا ہو گی : کرزئی بھی ڈٹ گئے

واشنگٹن (این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ+ آن لائن) امریکہ نے افغان طالبان سے ایک بار پھر ہتھیار پھینک کر امن مذاکرات شروع کر نے کی اپیل کردی اور کہا ہے جنگ ختم کرنے کا یہی پرامن راستہ ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاﺅس کے ترجمان جے کار نی نے کہا طالبان ہتھیار پھینک کر مذاکرات شروع کریں۔ جنگ ختم کرنے کا یہی پرامن راستہ ہے۔ جنگ سے دونوں اطراف کا نقصان ہو رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مذاکرات کئے جائیں۔ افغا ن طالبا ن نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی تازہ پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ واضح حقائق پر چشم پوشی کر رہا ہے۔ جب تک افغانستان میں ایک بھی غیر ملکی فوجی موجود ہوگا، تحریک طالبان سے ہتھیار ڈالنے کی امید قائم نہ کی جائے۔ امریکہ صحیح معنوں میں امن و استحکام چاہتا ہے تو غیرملکی افواج کو افغان سرزمین سے نکلنا پڑیگا۔ افغان تحریک طالبان کی طرف سے وائٹ ہاﺅس کی جانب سے تشدد کا راستہ ترک کر کے مذاکرات شروع کرتے کی پیشکش کے ردعمل میں جاری کئے گئے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں استعماری افواج کے خلاف حالیہ دنوں میں چند مسلسل تابڑ توڑحملوں کے بعدگزشتہ روز کابل میں امریکہ ونیٹوممالک کے اعلیٰ حکام پر طالبان کی جانب سے فدائی حملہ ہوا۔ ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکہ افغان سکیورٹی معاہدے پر دستخط سے پہلے امریکہ کو طالبان سے امن مذاکرات شروع کرنا ہوں گے۔ امریکہ اب افغانستان میں مزید کوئی فوجی آپریشن یا فضائی حملہ نہیں کر سکتا۔
مسترد / کرزئی