مقبوضہ کشمیر: جعلی ادویات سکینڈل کیخلاف آج ہڑتال کی جائیگی

سرینگر(کے پی آئی)حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کشمےری عوام سے کہا ہے کشمےر مےں جعلی ادوےات کی سپلائی کیخلاف آج ہفتے کو مکمل ہڑتال کی جائے ۔ اےک بےان مےں انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف گولیوں اور بموں کے ذریعے سے ہماری نوجوان نسل کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے، وہاں دوا کے نام پر زہر بیچ کر ہمارے نونہالوں اور معصوموں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ ایک بیان میں حریت چیئرمین نے کہا کہ یہاں ہر مہینے کروڑوں روپے مالیت کی ادویات فروخت ہورہی ہیں۔ اس صورتحال میں جعلی ادویات کے سکینڈل کے انکشاف سے یہی بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ کشمیری قوم کو اس راستے سے بھی ہلاک کرانے کا ایک منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے اور انہیں دوا کے نام پر زہر پلاکر انتقام گیری کا نشانہ بنائے جانے پر باضابطہ طور عمل شروع کیا گیا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ جعلی ادویات کی سپلائی میں حکومت کی منظوری اس سارے گھپلے کا سب سے زیادہ بھیانک اور سنگین پہلو ہے۔ عالمی تنظیموں کے ذمہ داروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین ایشو کی چھان بین کرانے اور حقائق کا پتہ لگانے میں اپنا کردار نبھائیں۔ گیلانی نے ٹرانسپورٹرز، ٹریڈرز، دوکانداروں اور ملازمین سمیت تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ ہڑتال کو کامیاب بنانے میں تعاون دیکر اپنے ملی اور قومی کاز کو تقویت پہنچائیں۔دریں اثناءمقبوضہ کشمےر مےں بھارت سے جعلی ادوےات کی فراہمی کے خلاف سول سوسائٹی نے احتجاجی رےلی نکالی ۔ ملازمےن کی تنظےموں اور کشمیر سنٹر فار سوشل اینڈ ڈویلپمنٹ سٹیڈیز کے بینر تلے ایک احتجاجی ریلی نکال کراس انسانیت سوز سکینڈل میں ملوث تمام لوگوں کو برطرف کرکے انہیں پھانسی دئیے جانے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناءمقبوضہ کشمےر کے شمالی قصبے سوپور مےں بھارتی فورسز نے اےک شہری کو شہےد کردےا جبکہ اےک مجاہد کی گرفتاری کا دعوی کےا گےا ہے۔فورسز نے واگب اور کرانکشون کے درمیان ایک میوہ باغ کا محاصرہ کیا اور شبیر احمد شیخ نامی مقامی نوجوان کو گولی مار کر شہےد کر دےا۔ انسپکٹرجنرل آف پولیس کشمیر عبدالغنی میر نے پرےس کانفرنس مےں دعویٰ کےا ہے کہ پولیس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران بہرام پورہ سوپور کے نزدیک لشکر طیبہ کے چیف ڈویژنل کمانڈر شمالی کشمیر قاری نوید عرف فہداللہ ساکن ملتان (پاکستان) کو گرفتار کیا۔فہداللہ کی گرفتاری کوعسکریت کیلئے ایک بڑ ا دھچکا اور پولیس و آرمی کیلئے ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے عبدالغنی میر نے کہا کہ 2009ءمیں لشکر کمانڈر عبداللہ اونی کی ہلاکت کے بعد فہداللہ شمالی کشمیر کے سوپور علاقے میںکافی سرگرم تھا ۔