مسلم رہنماﺅں کی ملاقات....منموہن فسادات سے متاثرہ مسلمانوں کیلئے ہمدردی کا ایک لفظ بولے نہ واقعات روکنے کا یقین دلایا

مسلم رہنماﺅں کی ملاقات....منموہن فسادات سے متاثرہ مسلمانوں کیلئے ہمدردی کا ایک لفظ بولے نہ واقعات روکنے کا یقین دلایا

نئی دہلی(اے این این) بھارت کی مسلم تنظیموں نے وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظفر نگر میں مسلم کش فسادات اور ایک لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کے باوجود ہمدردی کا ایک لفظ نہیں بولا نہ ایسے واقعات کے مستقبل میں تدارک کی یقین دہانی کرائی۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ان کی رہائشگاہ 7 ریس کورس پر جمعیت علما ہند، جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث ہند، مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لاءبورڈ وغیرہ کے رہنماﺅں نے ملاقات کی جو 45 منٹ تک جاری رہی جس میں خاص طور سے مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد اور سرد خانہ میں پڑی انسداد فرقہ وارانہ بل موضوع بحث رہا۔ وفد نے شمالی ہندوستان میں فرقہ وارانہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں سوال کیا کہ وہ انسداد فرقہ وارانہ بل کی منظوری کا قدم کب اٹھا رہے ہیں؟ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علما ہند کے جنرل سیکرٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وزیراعظم سے ہماری ملاقات بہت ہی مایوس کن رہی، وزیراعظم کی اقلیت دوست شبیہ کے مدنظر ایسی امید کی جا رہی تھی کہ متاثرین پر ہونے والے مظالم کے چشم دید معائنے کے بعد ان کا رویہ بہت ہی سخت ہو گا لیکن اس کے برعکس وزیراعظم نے صرف روایتی طریقے سے جواب دینے پر اکتفا کیا۔
 وفد نے اس موقع پر ایک میمورنڈم بھی پیش کیا جس میں مظفر نگر میں رونما ہونے والے فسادات کے حوالے سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ہم سب اور خود آپ نے مظفر نگر کا دورہ کیا ہے وہاں پر رونما ہونے والا حادثہ گجرات فسادات سے کم نہیں ہے، سرکاری اعداد و شمار جو بھی کہہ رہے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ فساد میں ایک لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے ہیں 65 ہزار مدرسوں اور عید گاہوں میں قائم کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ بقیہ افراد اپنے رشتہ داروں اور اقربا کے یہاں رہ رہے ہیں۔ سرکاری طور پر کیمپ نہ لگانا افسوس ناک امر ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے پاس ان سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جہاں تک ایف آئی آر درج کرنے کا معاملہ ہے تو اس جانب بڑی لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ پولیس مقدمہ درج کرنے میں کوتاہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وفد نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے پناہ گزین کیمپوں اور رشتہ داروں کے پاس رہنے والے افراد تک راحت رسانی پہنچانے کا حکم جاری کریں، بے گھر ہونے والوں کے نام، نقصانات اور ان کو نقصان پہنچانے والوں کی جامع فہرست تیار کرنے اور مقدمہ درج کرنے میں درپیش رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعظم سے یہ بھی کہا گیا کہ متاثرین کو ان کے جان و مال، مکانات اور کھیتوں کے ضائع ہونے کا معقول معاوضہ دیا جائے، ان کے مکانات کی تعمیر نو یا مرمت کا مناسب حکم دیا جائے اور اگر کوئی گھر واپس نہیں جانا چاہتا تو اس کے لئے متبادل انتظام کیا جائے۔ وفد کے ایک اہم رکن مولانا نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کی توجہ ایک اہم مقاصد کی طرف دلائی کہ یو پی اے اور این ڈی اے کے مابین جاری سیاسی جنگ کا نقصان مسلم اقلیت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے لیکن یو پی اے مسلمانوں کی حفاظت کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں کر رہی ہے، اقلیتوں پر مظالم کے سدباب کے لئے انسداد فرقہ وارانہ بل کی منظوری کے سلسلے میں مرکز کے سرد رویے پر خفگی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم سے کہا گیا کہ موجودہ حالات میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ بل کو منظور کر کے نافذ کر دیا جائے اور اگر فوری طور سے مشکل ہو تو فوڈ بل کی طرح اس کے متعلق بھی آرڈیننس لایا جائے تاکہ فرقہ پرستوں اور ملک کو توڑنے والی طاقتوں کو لگام دے سکے۔
منموہن/فسادات